• News
  • »
  • قومی
  • »
  • سوشل میڈیا پوسٹس پر ایکشن، دہلی پولیس نے ایکس سے مانگی تفصیلات

سوشل میڈیا پوسٹس پر ایکشن، دہلی پولیس نے ایکس سے مانگی تفصیلات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 29, 2026 IST

سوشل میڈیا پوسٹس پر ایکشن، دہلی پولیس نے ایکس سے مانگی تفصیلات
دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X  سے کہا ہے کہ وہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے احتجاج کے دوران آئینی عہدوں پر فائز افراد کو نشانہ بنانے والی مبینہ تضحیک آمیز، بدنیتی پر مبنی اور ہتک آمیز پوسٹس اور ویڈیوز کو ہٹا دے۔ پولیس نے X کو بھیجی گئی شکایت میں الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران کچھ ایسا مواد پھیلایا گیا جو آئینی عہدیداروں کے خلاف تھا۔

پولیس نے X سے کیا مطالبہ کیا ؟

دہلی پولیس نے X سے مطالبہ کیا کہ: مبینہ پوسٹس اور ویڈیوز کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔
 ان اکاؤنٹس کی مکمل معلومات فراہم کی جائیں جن سے یہ مواد اپ لوڈ کیا گیا۔
 اکاؤنٹ ہولڈرز کے نام، پتے، رابطہ معلومات اور ای میل آئی ڈی دی جائے۔
 پوسٹس سے متعلق لاگ اِن اور لاگ آؤٹ ریکارڈ تاریخ اور وقت کے ساتھ فراہم کیے جائیں۔
 تحقیقات کے لیے متعلقہ تمام ڈیٹا محفوظ رکھا جائے۔
کیس سے متعلق مزید کوئی بھی معلومات پولیس کے ساتھ شیئر کی جائیں۔
بھارتیہ ساکشیہ ادھینیم (BSA) کی دفعہ 63(4) کے تحت ضروری سرٹیفکیٹ فراہم کیا جائے۔

وزیراعظم سے متعلق پوسٹس پر بھی کاروائی

اس سے پہلے 27 جولائی کو دہلی پولیس نے کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہدایت دی تھی کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور ہتک آمیز تبصروں والی پوسٹس اور ویڈیوز کو ہٹائیں۔ پولیس کے مطابق یہ پوسٹس جنتر منتر پر طلبہ کے احتجاج اور 20 جولائی کے "سنساد چلو" مارچ کے دوران سامنے آئی تھیں، جہاں تشدد کے واقعات بھی پیش آئے تھے۔

سوشل میڈیا کی نگرانی جاری

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کی سوشل میڈیا مانیٹرنگ ٹیم احتجاج سے متعلق آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھ رہی ہے۔ پولیس کے مطابق قابل اعتراض مواد سامنے آنے پر متعلقہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس بھیجے گئے ہےاور انہیں مواد ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ پہلے بھی وزیر اعظم کو نشانہ بنانے والی کئی مبینہ توہین آمیز پوسٹس اور ویڈیوز پلیٹ فارمز سے ہٹائی جا چکی ہیں۔ حکام کے مطابق سائبر اور سوشل میڈیا ٹیمیں مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ قابل اعتراض مواد کی نشاندہی کی جا سکے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جا سکے۔