• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • دہلی ٹنل اور نئے ہائی ویز ،مرکزی حکومت کا بڑا انفراسٹرکچر پلان

دہلی ٹنل اور نئے ہائی ویز ،مرکزی حکومت کا بڑا انفراسٹرکچر پلان

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jul 12, 2026 IST

دہلی ٹنل اور نئے ہائی ویز ،مرکزی حکومت کا بڑا انفراسٹرکچر پلان
 
مرکزی حکومت نے حال ہی میں تقریباً 14,115 کروڑ روپے کے دو بڑے سڑک منصوبوں کو منظوری دی ہے۔ ان منصوبوں میں ایک دہلی میں 8.1 کلومیٹر لمبی سرنگ اور دوسرا اتر پردیش میں کانپور سے کبرائی(Kabrai) تک 117.7 کلومیٹر لمبا گرین فیلڈ ہائی وے شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں سےلوگوں کا سفر پہلے سے زیادہ آسان ہوگا ، سامان کی حمل و نقل تیز ہوگی، تجارت کو فروغ ملے گا اور دہلی۔این سی آر اور بندیل کھنڈ کے علاقوں میں روزگار اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
 
دہلی میں بننے والی نئی سرنگ دوارکا ایکسپریس وے کو جنوبی دہلی کے نیلسن منڈیلا مارگ سڑک سے جوڑے گی۔ یہ منصوبہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوگا جو روزانہ دوارکا، گروگرام، جنوبی دہلی اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل (IGI) ایئرپورٹ کے راستے سے سفرکرتے ہیں، کیونکہ ان علاقوں میں اکثر ٹریفک جام رہتا ہے۔
 
 
حکومت کے مطابق اس سرنگ کے بننے سے دوارکا ایکسپریس وے، آئی جی آئی ایئرپورٹ، دوارکا، وسنت کنج اور جنوبی دہلی تک پہنچنا پہلے سے زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ سرنگ مستقبل میں بننے والے اے آئی آئی ایم ایس  مہیپال پور ایلیویٹڈ کوریڈورسے بھی جڑے گی، جس سے نوئیڈا، غازی آباد اور مشرقی دہلی تک پہنچنا بھی پہلے سےزیادہ آسان ہوگا۔
 
 
اس سرنگ کی تعمیر پر تقریباً 6,969.67 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ ہائبرڈ اینوئیٹی ماڈل کے تحت بنایا جائے گا۔ حکومت کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے سے تعمیر کے دوران تقریباً 7.54 لاکھ یومِ روزگار جبکہ 9.8 لاکھ یومِ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
 
 
جہاں بہتر سڑکیں بنتی ہیں وہاں جائیداد کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی بھی اس منصوبے پر گہری نظر ہے۔
 
ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی کے ڈائریکٹر موہت گوئل کا کہنا ہے کہ دوارکا ٹنل اور کانپور۔کبرائی ہائی وے جیسے منصوبے صرف سفر آسان نہیں بناتے بلکہ ان سے شہروں کی ترقی، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بھی بڑھتے ہیں۔ ان کے مطابق دوارکا، آئی جی آئی ایئرپورٹ اور جنوبی دہلی کے درمیان آنے والی سڑک کی وجہ سے ان علاقوں میں گھروں کی مانگ بڑھے گی، جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا اور کرائے پر مکان لینے والوں کی تعداد بھی بڑھ سکتی ہے۔
 
دوسری طرف حکومت نے کانپور سے کبرائی تک 117.7 کلومیٹر لمبے گرین فیلڈ ہائی وے کی بھی منظوری دی ہے، جس پر تقریباً 7,145.14 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
 
یہ ہائی وے بھوپال۔کانپور اکنامک کوریڈور(Flyover) کا حصہ ہوگا اور اتر پردیش کے صنعتی علاقوں کو مدھیہ پردیش کے صنعتی، کان کنی اور زرعی علاقوں سے جوڑے گا۔یہ ہائی وے قومی سڑکوں(National Highways)نمبر 34 اور 35 کے ساتھ بندیل کھنڈ ایکسپریس وے اور کانپور رنگ روڈ سے بھی جڑے گا۔
 
حکومت کے مطابق اس ہائی وے  کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ کانپور سے کبرائی تک کا سفر، جو اس وقت تقریباً ساڑھے تین گھنٹے میں طے ہوتا ہے،  نئے ہائی وےبننے کے بعد صرف 90 منٹ میں مکمل ہو سکے گا۔
 
اس سے کاروباری افراد، صنعتوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو بڑا فائدہ ہوگا، کیونکہ سامان کی ترسیل تیز ہوگی، اور بندیل کھنڈ کے علاقے میں نئی صنعتیں لگنے کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
 
ٹی آر جی گروپ کے منیجنگ ڈائریکر پون شرما کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے انفراسٹرکچر منصوبے صرف سفر کا وقت کم نہیں کرتے بلکہ معیشت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ ان کے مطابق بہتر سڑکوں کی وجہ سے کاروبار، گودام، لاجسٹکس، ریٹیل، ہوٹل اور دیگر تجارتی منصوبوں کو فروغ ملتا ہے، جس سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ جب کسی علاقے میں اچھی سڑکیں ہوتے ہے تو بڑی کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لیتی ہیں، جس سے مقامی معیشت بھی مضبوط ہوتی ہے۔
 
حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند سالوں  میں بھارت نے ہائی ہائی ویز کی تعمیر پر خاص توجہ دی ہے تاکہ سامان کی ترسیل سستی اور تیز ہو، نئی صنعتوں کو بہتر سہولیات ملیں اور ملک کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے بہتر طریقے سے جوڑا جا سکے۔
 
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) کے مطابق بہتر سڑک نہ صرف سفر کو آسان بناتا ہے بلکہ سپلائی کو مضبوط کرتا ہے، صنعتوں کو فروغ دیتا ہے اور نجی سرمایہ کاری کو بھی بڑھاتا ہے۔
 
حکومت کو امید ہے کہ دہلی کی نئی سرنگ سے دارالحکومت کے علاقوں میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، جبکہ کانپور۔کبرائی ہائی وے بندیل کھنڈ کو ملک کے بڑے صنعتی مراکز سے جوڑ کر تجارت، صنعت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔