Thursday, April 30, 2026 | 12 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • دہلی فسادات کیس: کپل مشرا کے خلاف تفتیش کی مانگ مسترد!جانیے وجہ؟

دہلی فسادات کیس: کپل مشرا کے خلاف تفتیش کی مانگ مسترد!جانیے وجہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 30, 2026 IST

دہلی فسادات کیس: کپل مشرا کے خلاف تفتیش کی مانگ مسترد!جانیے وجہ؟
سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات میں  بی جے پی لیڈر کپل مشرا پر سنگین الزامات لگتے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف لوگوں کی طرف سے کپل مشرا کے خلاف تفتیش کرانے کی مانگ کو لے کر عرضی دائر کی گئی تھی۔ اسی طرح کی ایک  عرضی پر بدھ (29 اپریل) کو سماعت کے بعد عدالت نے بڑا فیصلہ سنایا۔
 
دہلی حکومت میں وزیر کپل مشرا سے متعلق اس معاملے میں عدالت نے شکایت کو ہی مسترد کر دیا اور اس کے پیچھے کی وجہ کو لے کر بہت سخت تبصرہ کیا۔ نئی دہلی کے رواز ایونیو کورٹ میں ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ اشونی پنوار نے بدھ (29 اپریل) کو یہ فیصلہ سنایا۔
 
بتایا جاتا ہے کہ یہ شکایت محمد الیاس کی طرف سے سال 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے متعلق کیس میں کپل مشرا کے خلاف مقدمہ درج کرانے کی مانگ کو لے کر کی گئی تھی۔ عدالت نے شکایت کنندہ کی بار بار غیر حاضری اور کیس کو آگے نہ بڑھنے کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا۔
 
عدالت نے اپنے حکم میں واضح طور پر کہا کہ شکایت کنندہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بار بار غیر حاضر رہا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر کیس کو لٹکانا چاہتا ہے۔ ایسی صورتحال میں عدالت کے پاس شکایت کو مسترد کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔
 
اس کے علاوہ عدالت نے شکایت کنندہ کے وکیل کے رویے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ رواز ایونیو کورٹ نے کہا کہ وکیل کے ذریعے مختلف تاریخوں پر دیے گئے بیانات آپس میں متضاد ہیں، جو کیس کو سنجیدگی سے نہ لینے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
 
اس سے قبل عدالت نے شکایت پر ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ بھی مسترد کر چکی تھی اور شکایت کنندہ کو اپنا بیان درج کرانے کے لیے کہا تھا۔ 13 مارچ 2026 کے حکم کے خلاف نظر ثانی عرضی دائر کرنے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد 27 مارچ کو بیان درج کرانے کی تاریخ طے ہوئی تھی۔
 
تاہم، اس کے بعد 27 مارچ کو بھی شکایت کنندہ عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ اس کے وکیل کی درخواست پر اگلی تاریخ 8 اپریل طے کی گئی۔ اس دن بھی شکایت کنندہ غیر حاضر رہا اور بتایا گیا کہ نظر ثانی عرضی سیشن عدالت میں دائر کی گئی ہے۔ اس کے بعد کیس 17 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔
 
17 اپریل کو پھر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی۔ وجہ بتائی گئی کہ اس کیس پر بحث کرنے والے وکیل محمود دستیاب نہیں ہیں۔ اس دن بھی شکایت کنندہ موجود نہیں تھا۔ عدالت نے اسے آخری موقع قرار دیتے ہوئے اگلی تاریخ 29 اپریل طے کی۔
 
کل یعنی بدھ (29 اپریل) کو جب رواز ایونیو کورٹ نے دوبارہ کیس کی سماعت شروع کی تو پھر کہا گیا کہ نظر ثانی عرضی جلد دائر کی جائے گی۔ عدالت نے اس بیان کو پہلے دیے گئے بیان کے برعکس پایا اور اسے سنجیدگی سے لیا۔ عدالت نے کہا کہ لگاتار تین تاریخوں پر شکایت کنندہ کی غیر حاضری سے واضح ہے کہ وہ اس کیس کو آگے بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ جب عدالت نے غیر حاضری کی وجہ پوچھی تو کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔