مانسون میں ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں اضافہ •
• بخار کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں
• خود علاج اور غیر ضروری اینٹی بایوٹکس سے گریز کریں
• گھروں کے اطراف پانی جمع نہ ہونے دیں
• بروقت تشخیص اور علاج پیچیدگیوں سے بچاتا ہے
منصف ٹی وی کے مقبول خصوصی پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج مانسون کے دوران تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں ڈینگی، ملیریا اور وائرل بخار پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر ایم اےمقسط قادری، سینئر کنسلٹنٹ جنرل میڈیسن، کیئر ہاسپٹلس، نامپلی، حیدرآباد نے ناظرین کو ان بیماریوں کی علامات، وجوہات، احتیاطی تدابیر اورعلاج کے بارے میں اہم معلومات فراہم کیں۔
ڈاکٹر مقسط قادری نے بتایا کہ مانسون کے موسم میں پانی جمع ہونے، نمی میں اضافے اور مچھروں کی افزائش کے باعث ڈینگی اور ملیریا کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس ایڈیز مچھر کے ذریعے پھیلتا ہے، جبکہ ملیریا اینوفیلس مچھر سے منتقل ہوتا ہے۔ دونوں بیماریوں میں بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں پیچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے ڈینگی کی علامات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تیز بخار، شدید جسم درد، سر درد، آنکھوں کے پیچھے درد، متلی اور بعض اوقات جلد پر سرخ دھبے ظاہر ہوسکتے ہیں۔ ملیریا میں وقفے وقفے سے بخار، سردی لگنا، پسینہ آنا اور کمزوری عام علامات ہیں۔ اس کے علاوہ وائرل بخار میں گلے کی خرابی، کھانسی، جسم درد اور تھکن نمایاں ہوسکتی ہے۔
ڈاکٹر قادری نے زور دے کر کہا کہ بخار کو معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے، خاص طور پر اگر بخار دو سے تین دن سے زائد برقرار رہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ خود علاج یا بغیر مشورہ اینٹی بایوٹک ادویات کا استعمال نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ درست تشخیص کے لیے ضروری ٹیسٹ کروانا اور مستند ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ گھروں اور اطراف میں پانی جمع نہ ہونے دیں، مچھر دانی اور ریپیلنٹ کا استعمال کریں، مکمل آستین والے کپڑے پہنیں اور صاف پانی پئیں۔ بچوں، بزرگوں اور کمزور قوت مدافعت رکھنے والے افراد کو خصوصی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے فی الحال سب سے مؤثر طریقہ مچھروں کی افزائش کو روکنا اور ذاتی حفاظتی اقدامات اختیار کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق عوامی بیداری اور بروقت طبی مشورہ مون سون کے دوران ان بیماریوں کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر ایم اے مقسط قادری کی مکمل بات چیت یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ چینل پر دیگر امراض پرماہرین کی ویڈیوز بھی دیکھ سکتے ہیں۔