Saturday, May 09, 2026 | 21 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • کھیل/تفریح
  • »
  • بھارتی کرکٹ میں ہلچل: نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے یشسوی اور شفالی کو دیا نوٹس

بھارتی کرکٹ میں ہلچل: نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے یشسوی اور شفالی کو دیا نوٹس

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 09, 2026 IST

بھارتی کرکٹ میں ہلچل: نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے یشسوی اور شفالی کو دیا نوٹس
انڈین  کرکٹ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ نیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (NADA) نے ٹیم انڈیا کے نوجوان سنسنی اوراسٹارکھلاڑی یشسوی جیسوال اور شفالی ورما کو نوٹس جاری کیا ہے۔ ان کے خلاف یہ کاروائی مخصوص وقت پر ڈوپ ٹیسٹ کے لیے دستیاب نہ ہونے پر 'ویئراباؤٹس فیلور' کے تحت کی گئی ہے۔ 'NADA' نے اس معاملے کے بارے میں BCCI اور ICC کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
 
NADA کے قوانین کے مطابق، 'رجسٹرڈ ٹیسٹنگ پول (RTP)' میں شامل کھلاڑیوں کو اس جگہ اور وقت کے بارے میں پیشگی معلومات دینا ہوتی ہیں جب وہ ڈوپ ٹیسٹ کے لیے دستیاب ہوں گے۔ تاہم، جب ڈوپنگ کنٹرول کے اہلکار 7 نومبر 2025 کو نمونے لینے گئے تو شفالی ورما اس جگہ نہیں تھی جس کا انہوں نے ذکر کیا تھا۔ اسی طرح حکام نے پایا کہ یشسوی جیسوال بھی 17 دسمبر 2025 کو دستیاب نہیں تھے۔
 
ان واقعات کے بعد 'NADA' نے فروری 2026 میں ان سے وضاحت طلب کی، لیکن دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ اس کے ساتھ، NADA نے اسے سرکاری طور پر 'مسڈ ٹیسٹ' کے طور پر درج کیا ہے۔ اب دونوں کو سات دن کی آخری تاریخ دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ بتا سکیں۔
 
اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق، اگر 12 ماہ کی مدت کے اندر تین 'ویئراباؤٹس فیل' ہوتے ہیں، تو اسے سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے اور کھلاڑی اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر پاتے ہیں تو ان پر دو سال تک پابندی لگنے کا خطرہ ہے۔ اگرچہ جیسوال اور شفالی کے لیے یہ پہلا جرم ہے، لیکن مستقبل میں اس طرح کے واقعات نہ دہرانے کے لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
 
معلوم ہوا ہے کہ NADA نے اس سے قبل 2019 میں اسی طرح کے ایک معاملے میں ہندوستانی بلے باز پرتھوی شا پر 8 ماہ کی پابندی عائد کی تھی، اس وقت، بی سی سی آئی نے دلیل دی تھی کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ٹربوٹالین نامی ممنوعہ محرک لیا تھا، جو کھانسی کی دوا میں پایا جاتا ہے۔ اس تناظر میں ماہرین کا مشورہ ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ڈوپنگ قوانین کے بارے میں زیادہ چوکس رہنا چاہیے۔
 
ڈوپ ٹیسٹ وہ معائنہ ہوتا ہے جس میں کھلاڑی کے خون یا پیشاب کا نمونہ لے کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے کارکردگی بڑھانے والی ممنوعہ دوائیں یا نشہ آور مادے استعمال تو نہیں کیے۔
 
یہ ٹیسٹ کھیل میں ایمانداری برقرار رکھنے اور تمام کھلاڑیوں کو برابر موقع دینے کے لیے کرایا جاتا ہے۔اگر کوئی کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ میں پکڑا جائے تو اس پر جرمانہ، میچوں سے معطلی، میڈلز یا ریکارڈ منسوخ ہونے جیسی کارروائی ہو سکتی ہے۔ سنگین صورت میں کئی سال یا مستقل پابندی بھی لگ سکتی ہے۔