Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • جوہر یونیورسٹی کیس میں اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی بڑی کاروائی،دہلی اور یوپی میں چھاپے

جوہر یونیورسٹی کیس میں اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی بڑی کاروائی،دہلی اور یوپی میں چھاپے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

جوہر یونیورسٹی کیس میں اعظم خان کے خلاف ای ڈی کی بڑی کاروائی،دہلی اور یوپی میں چھاپے
ای ڈی نے بدھ کو سماج وادی پارٹی کے رہنما اعظم خان سے منسلک کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کاروائی مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی۔ ای ڈی نے دہلی اور اتر پردیش میں تقریباً 10 مقامات پر تلاشی لی۔ یہ مقامات رام پور، سہارنپور اور دہلی میں واقع ہیں۔

سرکاری رقم کے مبینہ غلط استعمال کی تحقیقات

ای ڈی کی تحقیقات میں الزام ہے کہ کچھ نجی ٹھیکیداروں کو سرکاری تعمیراتی کاموں کے لیے رقم ملی، جسے بعد میں مبینہ طور پر یونیورسٹی اور اس سے منسلک ٹرسٹ کی سرگرمیوں میں استعمال کیا گیا۔ تفتیش کار ایسے مالی لین دین کی جانچ کر رہے ہیں جن میں بعض ٹھیکیداروں اور ٹرسٹ کے درمیان رقم کی منتقلی کا شبہ ہے۔ حکام کے مطابق، ای ڈی یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ سرکاری ٹھیکوں سے حاصل ہونے والی رقم میں سے کوئی حصہ یونیورسٹی یا ٹرسٹ تک کیسے پہنچا اور اسے کہاں استعمال کیا گیا۔

چھاپوں کے دوران کیا تلاش کیا جا رہا ہے؟

ای ڈی کی ٹیمیں مالی ریکارڈ، دستاویزات اور دیگر اہم ثبوت تلاش کر رہی ہیں۔ تفتیش کار مبینہ طور پر یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ یونیورسٹی اور ٹرسٹ سے منسلک جائیدادوں اور تعمیراتی کاموں کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ حکام کے مطابق اعظم خان سے متعلق پہلے درج مختلف مقدمات کی معلومات بھی ای ڈی کی تحقیقات میں شامل کی گئی ہیں۔ ایجنسی ان مقدمات سے متعلق دستاویزات اور دیگر شواہد کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

جوہر یونیورسٹی پہلے بھی تنازع میں رہی

محمد علی جوہر یونیورسٹی پہلے بھی قانونی اور انتظامی کاروائیوں کی وجہ سے خبروں میں رہی ہے۔ گزشتہ ماہ رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ حکام کا الزام تھا کہ ان عمارتوں کی تعمیر منظور شدہ نقشوں کے بغیر کی گئی۔یہ معاملہ فائر سیفٹی کے معائنے کے بعد سامنے آیا تھا۔

یونیورسٹی میں فائر سیفٹی کی جانچ

اتر پردیش میں مختلف تعلیمی اداروں کی فائر سیفٹی جانچ شروع کی گئی تھی۔ اسی سلسلے میں فائر ڈیپارٹمنٹ نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کا بھی معائنہ کیا۔ حکام کے مطابق معائنے کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ 38 عمارتوں کے منظور شدہ نقشے پیش نہیں کر سکی۔ حکام نے بتایا کہ یونیورسٹی کی صرف دو عمارتوں کے نقشے منظور شدہ تھے، جبکہ باقی 38 عمارتوں کے بارے میں مطلوبہ منظوری موجود نہیں تھی۔ فائر سیفٹی کی منظوری کے لیے عمارت کے منظور شدہ نقشے ضروری ہوتے ہیں۔ اسی بنیاد پر فائر ڈیپارٹمنٹ نے مبینہ خلاف ورزیوں کی اطلاع رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو دی۔

یونیورسٹی نے کیا جواب دیا؟

فائر ڈیپارٹمنٹ کی شکایت کے بعد رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو نوٹس جاری کرکے وضاحت طلب کی تھی۔ یونیورسٹی نے 6 جولائی کو اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ جن زمینوں پر یہ عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں، وہ پہلے رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بجائے گرام پنچایت کے دائرہ اختیار میں آتی تھیں۔ اس جواب کے بعد رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے مبینہ طور پر غیر منظور شدہ تعمیرات کے خلاف کاروائی کی ہدایت جاری کیا، جس کے تحت ان عمارتوں کو منہدم کرنے کی راہ ہموار ہوئی۔ فی الحال ای ڈی کی تازہ کاروائی منی لانڈرنگ کے الزامات سے متعلق ہے اور تفتیش جاری ہے۔ چھاپوں کے دوران ملنے والے دستاویزات اور دیگر شواہد کی جانچ کے بعد معاملے میں مزید پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
 
چھاپے صرف اعظم خان کی ذاتی جائیدادوں تک محدود نہیں ہیں۔ ای ڈی نے رام پور، سہارنپور اور دہلی میں ایسے کئی مقامات پر کاروائی کی ہے جو ٹرسٹ، یونیورسٹی یا معاملے سے منسلک افراد سے متعلق بتائے جا رہے ہیں۔