Thursday, May 21, 2026 | 03 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • عید الاضحیٰ: ایثار، اطاعت اور بے مثال قربانی کی لازوال یادگار

عید الاضحیٰ: ایثار، اطاعت اور بے مثال قربانی کی لازوال یادگار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 21, 2026 IST

عید الاضحیٰ: ایثار، اطاعت اور بے مثال قربانی کی لازوال یادگار
عید الاضحیٰ اسلام کے اہم ترین تہواروں میں سے ایک ہے، جسے ہر سال ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو پوری دنیا کے مسلمان نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ دن محض خوشی منانے یا رسم ادا کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک عظیم مقصد، گہرا پیغام اور ایک مکمل طرزِ زندگی کی تعلیم موجود ہے۔ عید الاضحیٰ دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یادگار ہے، جس نے رہتی دنیا تک انسانوں کو اطاعت، صبر اور اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا درس دیا۔
 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو قربانی کا حکم:
 
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خواب میں یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اس کی راہ میں قربان کریں۔ یہ ایک بہت بڑا امتحان تھا، لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بغیر کسی تردد کے اس حکم کو قبول کیا۔ دوسری طرف حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی صبر و رضا کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے والد سے کہا کہ آپ کو جو حکم ملا ہے، اسے پورا کریں، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم اطاعت کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا۔ اس واقعے نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے قربانی کو ایک عبادت اور سنت کی حیثیت دے دی۔
 
قربانی کا اصل مقصد:
 
قربانی دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ یہ عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو اپنی سب سے محبوب چیز بھی اللہ کے حکم کے سامنے قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ قرآن مجید میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ جانوروں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک بندے کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح اخلاص اور نیت کی پاکیزگی ہے، نہ کہ صرف ظاہری عمل۔
 
اسلام میں قربانی ہر اس مسلمان پر واجب ہے جو صاحبِ نصاب ہو۔ قربانی کے لیے مخصوص جانور مقرر کیے گئے ہیں جیسے بکری، بھیڑ، گائے، بھینس اور اونٹ۔ ان جانوروں کے لیے شریعت نے کچھ شرائط بھی رکھی ہیں، مثلاً جانور کا صحت مند ہونا، اس کی عمر کا مکمل ہونا اور اس میں کوئی واضح عیب نہ ہونا۔ قربانی کا وقت عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور بارہ ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک جاری رہتا ہے۔
 
قربانی کا ایک اہم پہلو اس کے گوشت کی تقسیم بھی ہے۔ مستحب طریقہ یہ ہے کہ گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے: ایک حصہ اپنے لیے، دوسرا رشتہ داروں اور دوستوں کے لیے، اور تیسرا حصہ غریبوں اور محتاجوں کے لیے۔ اس عمل سے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے اور غریب افراد بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو جاتے ہیں۔
 
عید الاضحیٰ کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنی خواہشات، اپنی انا اور اپنی خود غرضی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کرے۔ اگر کوئی شخص صرف جانور ذبح کرے لیکن اس کے دل میں تکبر، حسد اور نفرت باقی رہے تو وہ قربانی کے حقیقی مقصد کو حاصل نہیں کر پاتا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے کردار کو بہتر بنائے، دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے اور اپنی زندگی کو اللہ کے احکامات کے مطابق ڈھالے۔
 
مختصراً یہ کہ عید الاضحیٰ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں اطاعت، قربانی، اخلاص اور تقویٰ کو اختیار کریں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے اور اسی میں انسان کی کامیابی پوشیدہ ہے۔ اگر ہم اس پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگی میں نافذ کریں تو یہی حقیقی عید اور اصل کامیابی ہوگی۔
 
از قلم: حضرت علامہ و مولانا الحاج محمد صدام آرزونعیمی خطیب و امام مدرستہ المدینہ دعوت اسلامی، آسنسول بنگال