Thursday, May 21, 2026 | 03 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • تلنگانہ میں1کروڑ11 لاکھ مزدوروں کے لیے خوشخبری: کم از کم اجرت میں اضافہ

تلنگانہ میں1کروڑ11 لاکھ مزدوروں کے لیے خوشخبری: کم از کم اجرت میں اضافہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: May 21, 2026 IST

تلنگانہ میں1کروڑ11 لاکھ مزدوروں کے لیے خوشخبری: کم از کم اجرت میں اضافہ
 تلنگانہ حکومت نے ریاست بھر میں مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ  اے  ریونت ریڈی نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کے 1 کروڑ 11 لاکھ مزدوروں کی کم از کم اجرت میں اضافہ 1 جون سے نافذ العمل ہوگا۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے جمعرات کو کہا کہ یہ فیصلہ ڈپٹی چیف منسٹر مالو بھٹی وکرمارکا کی سربراہی میں کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی سفارش پر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مزدوروں کو چار زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے

 ان اسکلڈ، نیم اسکلڈ، اسکلڈ اور ہائیلی اسکلڈ:

 غیر ہنرمند(ان اسکلڈ) مزدوروں کی اجرت 12,750 روپے سے بڑھا کر 16,000 روپے کی گئی۔
 نیم ہنرمند(نیم اسکلڈ )مزدوروں کی اجرت 13,592 روپے سے بڑھا کر 17,000 روپے کی گئی۔
 ہنرمند(اسکلڈ )مزدوروں کی اجرت 13,772 روپے سے بڑھا کر 18,500 روپے کی گئی۔
انتہائی ہنرمند (ہائیلی اسکلڈ) مزدوروں کی اجرت 14,607 روپےسےبڑھا کر20,000 روپے کی گئی۔

 مزدورں کی بہتری کیلئے فیصلہ 

وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ یہ فیصلہ مزدوروں کی فلاح و بہبود، مہنگائی، روزمرہ ضروریات اور کرایہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے مزدوروں کی زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔مزید برآں، حکومت نے غیر ملکی ملکوں خاص طور پر خلیج اور مغربی ایشیا جانے والے مزدوروں کے لیے تربیتی پروگرام اور محفوظ انتظامات کرنے کا اعلان کیا، تاکہ انہیں کسی قسم کا نقصان یا دھوکہ نہ ہو۔

حکومت نےبنائے تین جغرافیائی زون 

سی ایم ریونت ریڈی نے کہا کہ حکومت نے تین جغرافیائی زون بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہم نے میونسپل کارپوریشنز کو زون 1، میونسپلٹیز کو زون 2، اور دیہی علاقوں کو زون 3 کے طور پر نامزد کرکے کم از کم اجرت کے ڈھانچے کا تعین کیا ہے۔"

 سابق حکومت پر تنقید 

 تلنگانہ سی ایم نے الزام لگایا کہ سابق ​​حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے مزدوروں کو نقصان اٹھانا پڑا۔وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی تشکیل کے بعد پہلی بار خاص طور پر مزدوروں کی بہبود کے لیے کوئی فیصلہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے ذمہ داری سے کام کیا اور ایسا فیصلہ لیا جو کارکنوں کے بہترین مفادات کو پورا کرتا ہے۔

 نوجوانوں کو سی ایم کا مشورہ 

ریونت ریڈی نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اس ذہنیت سے باہر آجائیں جو صرف انفارمیشن ٹکنالوجی میں کیریئر یا ریاستہائے متحدہ ہجرت پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ "جو تعلیم ملازمتیں پیدا کرنے یا روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے وہ بیکار ہے۔ تکنیکی مہارتوں کا حامل ہونا دوسرے مختلف ممالک جیسے کہ جرمنی، جاپان اور سنگاپور میں بہت سے مواقع فراہم کرتا ہے،" ۔انہوں نے مزید کہا"یہی وجہ ہے کہ ریاستی حکومت نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کو بااختیار بنانے کے لیےا سکلز یونیورسٹی قائم کی ہے۔ نوجوانوں کو اپنی توجہ اور کوششوں کو اس سمت میں لے جانا چاہیے،" ۔

 وزیر لیبراور ان کے والد کی ستائش 

 چیف منسٹر نے جی وینکٹ سوامی کے بیٹے، لیبر منسٹر وویک وینکٹ سوامی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔چیف منسٹر نے سابق مرکزی وزیر آنجہانی جی وینکٹ سوامی کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’مزدور لیڈر‘‘ کا ذکر کرنے سے ہی وینکٹاسوامی کا نام ذہن میں آجاتا ہے۔"اپنے جانشین کے طور پر، مسٹر وویک نے محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے مقصد سے ایک قابل ستائش فیصلہ لیا ہے،"