منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Piles, Fissure & Fistula Surgery: What People Really Want to Know" کے عنوان سے ایک نہایت معلوماتی پروگرام نشر کیا گیا، جس میں ڈاکٹر سید صادق علی حفان، کنسلٹنٹ باریاٹرک، منیمل ایکسس، جنرل اینڈ جی آئی سرجن، کامی نینی ہاسپٹلس، حیدرآباد نے بواسیر، اینل فشر اور اینل فسٹیولا سے متعلق عام غلط فہمیوں، ان کی علامات، جدید علاج اور سرجری سے متعلق اہم سوالات کے تفصیلی جوابات دیے۔
بواسیر،فشراور فسٹیولا تین الگ الگ بیماریاں
گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر سید صادق علی حفان نے کہا کہ بواسیر، فشر اور فسٹیولا تین الگ الگ بیماریاں ہیں، لیکن اکثر لوگ انہیں ایک ہی مرض سمجھ لیتے ہیں۔ یہی غلط فہمی کئی مریضوں کو بروقت علاج سے دور رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں بیماری مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
علامات
انہوں نے بتایا کہ بواسیر (Piles) اس وقت ہوتی ہے جب مقعد کے اندر یا باہر موجود رگیں سوج جاتی ہیں، جس کی وجہ سے درد، خون آنا، خارش اور رفع حاجت کے دوران تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ اینل فشر (Fissure) مقعد کے کنارے پر ایک باریک زخم ہوتا ہے، جو سخت پاخانے یا مسلسل قبض کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اور شدید جلن و درد کا سبب بنتا ہے۔ جبکہ اینل فسٹیولا (Fistula) ایک غیر معمولی نالی ہوتی ہے جو مقعد کے اندر سے جلد تک بن جاتی ہے، جس سے پیپ آنا، بار بار انفیکشن اور تکلیف کی شکایت رہتی ہے۔
بیماریوں کی وجوہات
ڈاکٹر حفان نے اس بات پر زور دیا کہ ان بیماریوں کی بنیادی وجوہات میں دائمی قبض، فائبر سے بھرپور غذا کا کم استعمال، پانی کم پینا، طویل وقت تک بیٹھے رہنا، موٹاپا اور جسمانی سرگرمی کی کمی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں بھی ان امراض سے بچاؤ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
طریقہ علاج اور سرجری کی ضرورت
علاج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہر مریض کو فوری سرجری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ابتدائی مرحلے میں متوازن غذا، زیادہ پانی پینا، فائبر کا استعمال بڑھانا، قبض سے بچاؤ، ادویات اور نیم گرم پانی کے ٹب میں بیٹھنے (Sitz Bath) جیسے آسان طریقوں سے بھی کافی فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم اگر بیماری پرانی ہو جائے یا بار بار خون آئے، شدید درد ہو یا فسٹیولا بن جائے تو جدید لیزر سرجری اور منیمل ایکسس سرجری کے ذریعے کامیاب علاج ممکن ہے۔
بیماری میں شرمندگی اور خوف سے پیچیدگیاں
انہوں نے واضح کیا کہ جدید جراحی تکنیکوں کی بدولت پہلے کے مقابلے میں درد کم ہوتا ہے، زخم چھوٹا ہوتا ہے، مریض جلد صحت یاب ہو جاتا ہے اور اسپتال میں زیادہ دن قیام کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ انہوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ شرمندگی یا خوف کی وجہ سے بیماری کو نہ چھپائیں، کیونکہ تاخیر سے علاج کرنے سے پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔
گھریلو نسخوں پر انحصارکےبجائے مستند سرجن سے مشورہ
پروگرام کے دوران ڈاکٹر سید صادق علی حفان نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ سوشل میڈیا یا غیر مستند ذرائع سے ملنے والے گھریلو نسخوں پر انحصار کرنے کے بجائے مستند سرجن سے مشورہ کرنا ہی دانشمندی ہے۔ درست تشخیص کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے کہ مریض کو ادویات، لیزر علاج یا سرجری کی ضرورت ہے۔
عوام کو مشورہ
پروگرام کے اختتام پر انہوں نے ناظرین کو پیغام دیا کہ متوازن غذا، روزانہ مناسب مقدار میں پانی پینا، باقاعدہ ورزش کرنا، قبض سے بچنا اور ابتدائی علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ان بیماریوں سے محفوظ رہنے کا بہترین طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص اور جدید علاج کے ذریعے بواسیر، فشر اور فسٹیولا کا مؤثر علاج ممکن ہے، اور مریض دوبارہ ایک صحت مند اور معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔
کنسلٹنٹ باریاٹرک، منیمل ایکسس، جنرل اینڈ جی آئی سرجن، کامی نینی ہاسپٹلس، حیدرآبادڈ کے ڈاکٹر سید صادق علی حفان کی مکمل بات چیت اور دیگر کئی امراض پر مشتمل صحت سے متعلق ویڈیوز آپ👇یہاں دیکھ سکتے ہیں۔