منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Monsoon Health Alert: Keeping Your Child Safe This Rainy Season" کے موضوع پر ایک نہایت معلوماتی نشست پیش کی گئی۔ اس پروگرام میں ڈاکٹر سدنّا گوڑ، سینئر پیڈیاٹرک انٹینسیوسٹ، یشودا ہاسپٹلس، سکندرآباد نے برسات کے موسم میں بچوں کو لاحق ہونے والے صحت کے خطرات، ان سے بچاؤ، ابتدائی علامات کی پہچان اور بروقت علاج کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
بارش میں متعدی بیماریاں
گفتگو کے آغاز میں ڈاکٹر سدنّا گوڑ نے کہا کہ بارش کا موسم بچوں کے لیے خوشی اور تفریح کا پیغام ضرور لاتا ہے، لیکن اسی موسم میں کئی متعدی بیماریاں بھی تیزی سے پھیلتی ہیں۔ نمی، آلودہ پانی، مچھروں کی افزائش اور موسم کی اچانک تبدیلی بچوں کے مدافعتی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے، جس کے باعث وہ مختلف انفیکشنز کا آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
برسات میں کوسنی بیماریاں عام ہیں
انہوں نے بتایا کہ مانسون کے دوران بچوں میں وائرل بخار، ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ، معدے کے انفیکشن، دست، قے، نزلہ، زکام، کھانسی اور سانس کی بیماریاں عام طور پر سامنے آتی ہیں۔ بعض اوقات یہ بیماریاں معمولی محسوس ہوتی ہیں، مگر اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، خاص طور پر کم عمر بچوں میں پانی کی کمی اور سانس لینے میں دشواری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ڈاکٹر نے ان کاموں سے کیا خبردار
ڈاکٹر نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر بچے کو تین دن سے زیادہ بخار رہے، سانس لینے میں دشواری ہو، بار بار قے یا دست آئیں، جسم پر سرخ دھبے نمودار ہوں، بچہ بہت زیادہ سست ہو جائے یا کھانے پینے سے انکار کرے تو انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خود سے اینٹی بایوٹکس یا درد کش (پین کلر)ادویات دینا بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
مانسون میں کن باتوں سے احتیاط کریں
احتیاطی تدابیر پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر سدنّا گوڑ نے کہا کہ بچوں کو ہمیشہ صاف اور اُبالا ہوا یا فلٹر شدہ پانی پلایا جائے، تازہ اور گھر کا بنا ہوا کھانا دیا جائے، ہاتھ دھونے کی عادت اپنائی جائے اور باہر کے غیر معیاری کھانوں سے حتی الامکان پرہیز کیا جائے۔ انہوں نے والدین کو یہ بھی مشورہ دیا کہ گھروں اور اطراف میں پانی جمع نہ ہونے دیں تاکہ مچھروں کی افزائش روکی جا سکے، اور بچوں کو مکمل آستین والے کپڑے پہنائیں تاکہ ڈینگی اور ملیریا جیسے امراض سے تحفظ حاصل ہو۔
ٹیکے وقت پر لگائیں
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حفاظتی ٹیکوں کا شیڈول ہر حال میں مکمل ہونا چاہیے، کیونکہ ویکسینیشن بچوں کو کئی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ مناسب نیند، متوازن غذا، موسمی پھل اور جسمانی سرگرمی بھی بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
والدین کی توجہ بچوں کو بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے
پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر سدنّا گوڑ نے کہا کہ والدین کی معمولی سی توجہ بچوں کو بڑی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسات کے موسم میں احتیاط، صفائی، بروقت تشخیص اور فوری طبی مشورہ ہی بچوں کی اچھی صحت کی ضمانت ہے۔ اگر کسی بھی غیر معمولی علامت کو نظر انداز نہ کیا جائے تو زیادہ تر موسمی بیماریوں پر ابتدائی مرحلے میں ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔
قارئین آپ اس موضوع پر ڈاکٹر کی مکمل بات چیت یہاں 👇دیکھ سکتےہیں۔