Thursday, April 30, 2026 | 12 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • ممبئی دہشت گرد حملوں کے کیس سے فہیم انصاری بری ،لیکن شک برقرار،پولیس کلیئرنس پر بریک

ممبئی دہشت گرد حملوں کے کیس سے فہیم انصاری بری ،لیکن شک برقرار،پولیس کلیئرنس پر بریک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: Apr 30, 2026 IST

ممبئی دہشت گرد حملوں کے کیس سے   فہیم انصاری بری ،لیکن شک برقرار،پولیس کلیئرنس پر بریک
بمبئی ہائی کورٹ نے بدھ 29 اپریل کو ایک مسلم شخص کی اس عرضی  کو مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے پولیس سے "پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ" جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں  نے  یہ سرٹیفکیٹ  اس لیے چاہا تاکہ وہ آٹو رکشا ڈرائیور کے طور پر کام کر سکے اور اپنا گزارہ کر سکے۔
 
ہائی کورٹ میں یہ عرضی فہیم انصاری نامی شخص نے دائر کی تھی، جنہیں سال 2008 کے ممبئی دہشت گرد حملوں کے کیس میں بری کیا جا چکا ہے۔ اس کیس کی سماعت بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس اجے گڈکری اور جسٹس رنجیت سنگھ بھونسلے کی بنچ نے کی۔
 
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیس کے حقائق اور سیکورٹی سے متعلق خدشات کو دیکھتے ہوئے پولیس کے ذریعے کلیئرنس سرٹیفکیٹ نہ دینا جائز ہے۔ اسی بنیاد پر عرضی کو مسترد کر دیا گیا۔
 
اس سے قبل فہیم انصاری نے فروری 2025 میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ عدالت میں فہیم نے دلیل دی تھی کہ انہیں سرٹیفکیٹ نہ دینا ان کے روزگار کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ اپنی روزی روٹی چلانے کے لیے وہ آٹو رکشا چلانا چاہتے ہیں۔
 
ایسے میں کمرشل آٹو چلانے کے لیے پولیس کلیئرنس سرٹیفکیٹ ضروری ہے، جس سے انہیں پبلک سروس وہیکل بیج مل سکے۔ یہ بیج ملنے کے بعد ہی انہیں آٹو چلانے کی اجازت ملے گی۔ تاہم، ریاستی حکومت کی طرف سے پیش وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فہیم انصاری دوسرے ایسے کام کر سکتے ہیں جن میں اس طرح کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی۔
 
سلام ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق ، فہیم انصاری کو 6 مئی 2010 کو ایک خصوصی عدالت نے اس بنیاد پر بری کر دیا تھا کہ ان پر لگے الزامات، یعنی حملہ آوروں کے لیے نقشے تیار کرنے کا الزام، ثابت نہیں ہو سکا۔ تاہم، اس کے علاوہ انہیں لکھنؤ میں ایک الگ کیس میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
 
نومبر 2019 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد انصاری نے ممبئی اور ٹھانے میں پرنٹنگ پریس میں کام کیا۔ کورونا وبا کے دوران انہوں نے کچھ عرصہ ڈیلیوری کا کام بھی کیا۔ کم آمدنی کی وجہ سے انہوں نے جنوری 2024 میں آٹو رکشا چلانے کا لائسنس حاصل کیا اور اس کے بعد پولیس تصدیق کلیئرنس حاصل کرنے کے لیے درخواست دی۔
 
جب فہیم انصاری کو اس پر کوئی جواب نہیں ملا تو انہوں نے معلومات کے حق کے تحت درخواست کی۔ اگست 2024 میں ملنے والے جواب میں بتایا گیا کہ ان کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی گئی ہے کہ ان کا مبینہ تعلق ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ سے رہا ہے۔