جموں و کشمیر سے حج 2026 عازمین کی واپسی کا مرحلہ آج سے شروع ہوگیا ہے۔ حجاج کرام کی پہلی پرواز 144 حاجیوں کو لے کر سری نگر بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری ۔سری نگر ہوائی اڈے پر چیف منسٹر عمر عبداللہ نے سینئر عہدیداروں کے کے ہمراہ آج واپس آنے والے حاجیوں کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر وزیر اعلی کے مشیر ناصر اسلم وانی، ڈپٹی کمشنر بڈگام ، جموں وکشمیر حج کمیٹی کے اعلی افسران اور ائرپورٹ اٹھاتی کےعہدیداران بھی موجود تھے ۔ پہلے قافلے میں 70 خواتین ور 74 مرد عازمین شامل ہیں۔ ایئرپورٹ پر جذباتی مناظر دیکھے گئے۔
جموں کشمیر حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے بتایا کہ عازمین کی واپسی کا سلسلہ آج سے باظابطہ طور پر شروع ہوگیا ہے۔ وہیں 2 سے 4 جون کے درمیان پروازیں سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتریں گیں۔ انہوں نے کہا کہ حجاج کی آمد سے قبل ہی تمام تر انتظامات کو مکمل کر لیا گیا تھا۔ آب زم زم یہاں پہلے پہنچ چکا ہے جو کہ حجاج کرام کو ائرپورٹ پر دیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ جموں وکشمیر کے عازمین کی روانگی 18 اپریل سے شروع ہوکر 28 اپریل تک جاری رہا۔ ایسے میں اب منگل یعنی 2 جون سےحجاج کرام کی واپسی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ رواں ماہ یعنی جون کی 16 تاریخ تک جاری رہے گا۔جموں و کشمیر حج کمیٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے عازمین کی حج واپسی کا عمل 16 جون تک جاری رہے گا۔
ڈاکٹر شجاعت احمد قریشی نے کہا کہ جموں و کشمیر سے اس سال 4,641 عازمین نے حج کیا، جن میں 2,583 مرد اور 2,058 خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ ، "کل 3,952 عازمین، جن میں 21 محرم کے بغیر خواتین بھی شامل ہیں، مقررہ آمد کی کارروائیوں کے دوران سری نگر ایمبرکیشن پوائنٹ کے ذریعے واپس آئیں گے۔"
ڈاکٹرقریشی نے کہا کہ سری نگر کے راستے آنے والے زائرین میں سے 3,631 کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے، جب کہ لداخ سے 321 اور پنجاب سے ایک حاجی بھی سری نگر ایمبرکیشن پوائنٹ کے راستے پہنچیں گے۔سی ای او نے کہا کہ جموں و کشمیر کے 1,061 عازمین ملک بھر کے دیگر سفری مقامات کے ذریعے بھی پہنچنے والے ہیں، جن میں 1,010 عازمین دہلی کے راستے، 49 ممبئی اور دو بنگلور کے راستے شامل ہیں۔ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ "سرینگر ایئرپورٹ پر آنے والے عازمین کے لیے ٹرانسپورٹ کے انتظامات، طبی سہولیات، امدادی کاؤنٹر اور زمزم کے پانی کی تقسیم کا پہلے ہی انتظام کیا جا چکا ہے۔"
سڑ ک کے راستہ سامان پہنچانے پرحجاج کرام میں برہم
جموں وکشمیر کے حجاج کرام کی واپسی سے قبل ہی جموں کشمیر حج کمیٹی کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے۔جس میں کہا گیا تھا کہ کہ نوٹام کے چلتے حجاج کرام کا سامان اور تبرکات وغیرہ احمد آباد سے سڑک کے راستے سرینگر بھیجا جائے گا۔ جس پر حجاج کرام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور وہ کافی برہم نظر آئے۔ سعودی عرب سے ہی انہوں نے اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ "جموں وکشمیر کے حجاج کے ساتھ یہ سراسر نا انصافی ہے۔ پہلے ہی دن سے یہاں کے عازمین کے ساتھ استحصال اور امتیازی سلوک روا رکھا گیا جوکہ ہم نے برداشت کیا۔
حا جیوں نےبتایاکہ اب کہا جا رہا ہے کہ 40 کلو گرام سامان کے بجائے اب 35کلو گرام کی ہی اجازت ہوگی۔ لیکن سامان کا کرایہ 40 کلو گرام کے حساب سے وصول کیا گیا۔اس پر ستم ظریفی یہ کہ اب سامان احمد آباد سے سڑک کے راستے سرینگر بھیجا جارہا ہے جو کہ ہماری لیے تکلیف دہ اور پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔" حجاج کرام نے کہا کہ "سامان کے ساتھ تبرکات کے طور کھجور وغیرہ بھی ہیں۔سرینگر سڑک کے راستے پہنچنے میں کافی دیر لگنے سے وہ خراب بھی ہوسکتے ہیں۔ جبکہ سامان حاصل کرنے کی پریشانی وہ الگ ہے۔۔ا"نہوں نے مزید کہا کہ "ہم نےجموں و کشمیر حج کمیٹی اور منتخب حکومت سے درخواست کی تھی وہ اس معاملے پر غور کریں اور ہمیں اس ذہنی کوفت اور پریشانی سے نجات دلائیں۔ لیکن استدعا پر بھی معاملے کی نسبت کوئی نظر ثانی نہیں کی گئی۔"
وزیراعلیٰ نے کی مرکزی وزیر سے اپیل
جموں و کشمیر کے چیف منسٹر کے دفترنے ایکس پوسٹ نے 30 مئی 2026 کو سی ایم عمرعبداللہ کا ایک سرکاری خط شیئر کیا ہے، جس یں مرکزی و زیر شہری ہوابازی کے رام موہن نائیڈو سے سعودی عرب سے واپس آنے والے حاجیوں کے سامان میں تاخیر پر
مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے۔
سری نگر ہوائی اڈے پر دیکھ بھال اور آپریشنل مسائل کی وجہ سے، مسافروں کے چیک ان سامان کو احمد آباد کے راستے الگ سے روٹ کیا جا رہا ہے اور سڑک کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے زیادہ تر بزرگ واپس آنے والوں کے لیے خاصی تاخیر ہو رہی ہے۔
خط میں عملی مشکلات اور مذہبی رسوم و رواج جیسے کہ زمزم کے پانی کی فوری تقسیم اور خاندان اور برادری میں کھجور تقسیم کرنے میں رکاوٹ کو نمایاں کیا گیا ہے۔