مرکزی وزیر صحت جے پی نڈا نے کہا ہے کہ حکومت NEET-UG میں مبینہ پیپر لیک اور بے قاعدگیوں کے معاملے پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی کی جانب سے گزشتہ 10 سالوں میں 152 پیپر لیک ہونے کے دعوؤں کی بھی تحقیقات کی جائیں گی تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
راہل گاندھی کے دعوؤں پر کیا کہا؟
جے پی نڈا نے کہا کہ راہل گاندھی نے ایک پریزنٹیشن میں تقریباً 152 پیپر لیک کا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور حکومت اس کی تحقیقات کرائے گی تاکہ حقیقت عوام کے سامنے آ سکے۔
پارلیمنٹ میں بحث کے لیے حکومت تیار
نڈا نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ پیپر لیک جیسے اہم مسئلے پر پارلیمنٹ میں تفصیل سے بحث ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جتنی دیر چاہے، حکومت اتنے وقت تک بحث کے لیے تیار ہے، چاہے وہ 12 گھنٹے ہو یا 18 گھنٹے۔ انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ صرف تنقید نہ کرے بلکہ مسئلے کا مستقل حل نکالنے میں حکومت کا ساتھ دے، کیونکہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں اور ان کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔
CJP کے نمائندوں سے ملاقات
جے پی نڈا نے بتایا کہ انہوں نے پیر کے روز کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے نمائندوں سے ملاقات کی تھی۔ ان کے مطابق حکومت نے ان کی باتیں غور سے سنیں اور انہیں اپنے مطالبات تحریری طور پر دینے کو کہا، نڈا نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے-
اپوزیشن پر بھی تنقید
جے پی نڈا نے الزام لگایا کہ صرف مرکزی حکومت کو نشانہ بنانا درست نہیں، کیونکہ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے زیرِ حکومت کئی ریاستوں میں بھی پیپر لیک کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے جموں و کشمیر، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، تلنگانہ، تمل ناڈو، مغربی بنگال، پنجاب، کیرالہ اور کرناٹک کا ذکر کیا، جہاں مختلف امتحانات میں مبینہ طور پر پیپر لیک یا بے ضابطگیوں کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔
راہل گاندھی سے سوال
جے پی نڈا نے راہل گاندھی سے سوال کیا کہ وہ صرف بعض ریاستوں کے معاملات کیوں اٹھاتے ہیں اور ان ریاستوں کا ذکر کیوں نہیں کرتے جہاں ان کی اپنی یا اتحادی جماعتوں کی حکومتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد طلبہ کے مفاد کا تحفظ اور امتحانی نظام کو بہتر بنانا ہے، جبکہ اپوزیشن کو بھی اس مسئلے کا مستقل حل تلاش کرنے میں تعاون کرنا چاہیے۔