مرکز،نے پہلے ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ سے لوگوں کو چونکا دیا ہے، مبینہ طور پر جلد ہی ایک اورجھٹکا دینے والا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکز بھی پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے والا ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل سمیت گھریلو گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اگرچہ اس معاملے پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں ہوا ہے لیکن مصدقہ اطلاعات کے مطابق قیمتوں میں اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
پیٹرول پر4-5 روپے فی لیٹر، ایل پی جی پر40-50 روپے کا اضافہ
تازہ ترین تخمینوں کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 4-5 روپے فی لیٹر اور گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 40-50 روپے فی سلنڈر اضافے کا امکان ہے۔ 2022 کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب مرکز نے ایک ساتھ اس سطح پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرےگا۔
آئل کمپنیوں پر دباؤ:قیمتوں میں اضافہ ناگزیر
اس وقت ایران جنگ کی وجہ سے تیل کی بین الاقوامی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ کئی ممالک کو تیل کی قلت کا سامنا ہے۔ اس سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر دباؤ پڑ رہا ہے۔ اس تناظر میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے۔ تاہم، مرکزی حکومت نے حال ہی میں قیمتوں میں اضافے پر ایک اہم اعلان کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے فوراً بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان نہیں ہے۔
کمرشل سلنڈر کی قیمت میں اضافہ،اب پیٹرول اور ڈیزل کی باری
لیکن، کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 933 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب پیٹرول کی قیمتیں بڑھنے کو تیار ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مغربی ایشیائی جنگ کے باعث تیل کی پیداوار میں کمی، نقل و حمل میں رکاوٹ اور تیل کی فی بیرل قیمت میں ہوشربا اضافے کی وجہ سے ملک میں ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ قیمتیں نہ بڑھائی گئیں تو کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ سبسڈی میں اضافہ اور ٹیکسوں میں کمی سے صارفین پر بوجھ کسی حد تک کم ہو جائے گا۔
چند دنوں میں اعلان ممکن، مہنگائی میں اضافہ
سمجھا جاتا ہے کہ مرکز اس معاملے پر اگلے 5-7 دنوں میں کوئی فیصلہ لے گا۔ اگر قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں تو اس کا بوجھ عام لوگوں اور کاروباری اداروں پر پڑے گا۔ دوسری جانب پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار ٹرانسپورٹ پر بھی بھاری بوجھ پڑے گا۔
قیمتوں میں اضافہ عوام کو انتخابی بل: راہل
کانگریس پارٹی کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اس قیمت میں اضافہ پر ردعمل دیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کیا کہ صرف تین ماہ میں کمرشل سلنڈر کی قیمت میں 81 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔۔ ایک ہی دن میں 993، اور یہ یقینی طور پر انتخابی بل ہے۔
انتخابات کےبعد قیمتیں بڑھیں
راہل گاندھی نے کہا کہ انہوں نے پہلے خبردار کیا تھا کہ انتخابات کے بعد قیمتیں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آج کمرشل سلنڈر کی قیمت میں اضافہ اس کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 993 ایک دن میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فروری سے 1,380 کا اضافہ ہوا ہے۔ یعنی گزشتہ تین ماہ میں 81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
چھوٹے تاجرشدید متاثر،عام آدمی پر بوجھ
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں اضافے کا اثر چھوٹے تاجروں پر شدید پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چائے کی دکانیں، ٹفن سینٹرز، ہوٹل، بیکریاں، مٹھائی کی دکانیں وغیرہ متاثر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ عام آدمی پر بھی بوجھ بنے گا۔آج کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ، ایک 19 کلو کے کمرشل سلنڈر کی قیمت 3,000روپے سے زیادہ ہے۔