• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • حماس ہتھیار حوالے کرنے پر اصولی معاہدے پر آمادہ، غزہ جنگ کے خاتمے کی امید

حماس ہتھیار حوالے کرنے پر اصولی معاہدے پر آمادہ، غزہ جنگ کے خاتمے کی امید

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 01, 2026 IST

حماس ہتھیار حوالے کرنے پر اصولی معاہدے پر آمادہ، غزہ جنگ کے خاتمے کی امید
حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار حوالے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو غزہ میں جاری طویل جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد سے قبل متعدد سیاسی اور سکیورٹی رکاوٹیں موجود ہیں، جنہیں دور کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی تفصیلات سامنے لانے کے چند گھنٹوں بعد کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ پیش رفت امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سامنے آئی، جس کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان کئی ماہ سے جاری لڑائی رک گئی تھی۔دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے تاحال اس معاہدے پر کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ جاری نہیں کیا ہے، جس کے باعث اس کے آئندہ مراحل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
 
غزہ میں انسانی بحران برقرار
 
جنگ کے دوران اسرائیلی افواج نے غزہ کے نصف سے زائد علاقے پر قبضہ کر لیا، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو کر عارضی خیمہ بستیوں میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ مسلسل بمباری کے باعث رہائشی علاقوں، بنیادی ڈھانچے، اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا، جس سے غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا۔ اگرچہ حماس کی جانب سے ہتھیار حوالے کرنے پر آمادگی کو امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مبصرین کے مطابق معاہدے کی کامیابی کا انحصار تمام فریقین کی رضامندی، سکیورٹی انتظامات اور مستقبل کے سیاسی مذاکرات پر ہوگا۔
 
 
جنگ کا پس منظر
 
غزہ میں جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد ہوا تھا، جس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر وسیع فوجی کارروائیاں شروع کیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں جنگ بندی کے بعد پیش آنے والے حملوں میں جان گنوانے والے افراد بھی شامل ہیں۔