Thursday, May 14, 2026 | 26 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ہاتھرس ریپ کیس: راہل گاندھی کو اس معاملے میں ملی بڑی راحت،جانیے پورا معاملہ؟

ہاتھرس ریپ کیس: راہل گاندھی کو اس معاملے میں ملی بڑی راحت،جانیے پورا معاملہ؟

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 14, 2026 IST

ہاتھرس ریپ کیس: راہل گاندھی کو اس معاملے میں ملی بڑی  راحت،جانیے پورا معاملہ؟
اتر پردیش کے ضلع ہاتھرس کی ایک خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے خلاف دائر ہتکِ عزت کی شکایت کو خارج کر دیا ہے۔ یہ شکایت ان تین افراد کی جانب سے دائر کی گئی تھی جنہیں ہاتھرس کیس میں عدالت نے بری کر دیا تھا، لیکن راہل گاندھی نے مبینہ طور پر انہیں دوبارہ "ملزم" کہہ کر مخاطب کیا تھا۔تاہم ایڈیشنل سول جج دیپک ناتھ سرسوتی نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 226 کے تحت درخواست کو خارج کر دیا۔
 
عدالت نے کیا کہا؟
 
عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی شخص کو بطور ملزم طلب کرنا ایک سنگین معاملہ ہے اور مجسٹریٹ کو اس کے لیے اپنے 'عدالتی ضمیر' کا استعمال کرنا چاہیے۔ جج نے ریمارکس دیا کہ،صرف اس لیے کہ شکایت کنندہ نے دو گواہ پیش کر دیے ہیں، قانون فوری طور پر حرکت میں نہیں آ جاتا۔ کسی کو بھی سمن جاری کرنے سے پہلے حقائق اور متعلقہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
 
عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ راہل گاندھی کا بیان کسی پر ذاتی حملہ نہیں تھا، بلکہ ان کا مقصد حکومتی پالیسیوں اور بیانات پر تنقید کرنا تھا۔
 
کیا تھا پورا معاملہ؟
 
شکایت کنندگان کے وکیل مننا سنگھ پندھیر کے مطابق، روی، رام کمار عرف رامو اور لوکش نے راہل گاندھی کے خلاف تین الگ الگ مقدمات درج کرائے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ 12 دسمبر 2024 کو بلغڑھی گاؤں کے دورے کے دوران راہل گاندھی نے کہا تھا کہ 'ملزمان کھلے عام گھوم رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندان گھر کے اندر قید ہیں'۔
 
شکایت کنندگان کا موقف تھا کہ چونکہ عدالت انہیں پہلے ہی بری کر چکا  ہے، اس لیے انہیں "ملزم" کہنا ان کی توہین ہے۔ انہوں نے راہل گاندھی کو 1.5 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھی بھیجا تھا، جس میں فی کس 50 لاکھ روپے ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
 
ہاتھرس اجتماعی زیادتی کیس:
 
ستمبر 2020 میں ہاتھرس کے ایک گاؤں میں ایک دلت لڑکی کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے چند روز بعد دہلی کے اسپتال میں علاج کے دوران اس کی موت ہو گئی تھی۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے بعد چار افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا۔ سماعت کے بعد عدالت نے تین ملزمان (رام کمار، لوکش اور روی) کو بری کر دیا تھا، جبکہ ایک ملزم 'سندیپ' کو قصوروار قرار دیا تھا جو اس وقت جیل میں ہے۔