امریکہ اور اسرائیل نے پورے مشرق وسطیٰ میں تشدد اور تناؤ پیدا کر دیا ہے، اور اس کا اثر پوری دنیا پر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیلی فوج نے لبنان کے کئی شہروں پر تابڑ توڑ حملے کر کے 250 سے زائد بے گناہوں کو موت کی نیند سلا دی ۔ نتن یاہو حکومت کی اس کاروائی کی پوری دنیا میں مذمت ہو رہی ہے، اور اسرائیل کے جنگی جرائم پر پردہ ڈالنے والے یورپی ممالک بھی اس کی مخالفت میں اتر آئے ہیں۔
اسرائیلی حملوں میں لبنان کے کئی علاقوں میں عام زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔ اسرائیلی حملے کا مسلح گروپ حزب اللہ نے منہ توڑ جواب دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ لبنان کے ایک مسلح گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے پچھلے 24 گھنٹوں میں اسرائیل کے 39 فوجی ٹھکانوں پر کاروائی کی ہے۔ ان حملوں میں اسرائیلی بستیوں، آرمی کیمپوں اور فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ سرحد کے قریب اور شمالی اسرائیل میں قریبی لڑائی بھی ہوئی۔ یہ معلومات ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔
اس دوران عالمی صحت تنظیم (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے بتایا کہ جنوبی لبنان کا تیبنین سرکاری ہسپتال شدید متاثر ہوا ہے، جس سے صحت کی خدمات پر برا اثر پڑا ہے۔ یہ ہسپتال 12 اور 14 اپریل کو قریب میں ہونے والے دو حملوں سے متاثر ہوا۔ ان حملوں میں 11 صحت کارکن زخمی ہو گئے تھے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے کہا کہ ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ وہاں زندگی بچانے والے آلات جیسے سانس دینے والی مشینیں، نگرانی کے آلات، سٹریچر اور مریضوں کو لے جانے والے سامان تباہ ہو گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ادویات کا ذخیرہ اور بیرونی مریضوں کا علاج بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ تاہم ہسپتال اب بھی کام کر رہا ہے، اور ڈبلیو ایچ او نے فوری طور پر ضروری اقدامات کرتے ہوئے اس کی مرمت کے لیے مدد بھیج دی ہے۔
ٹیڈروس اذانوم گیبریئسس نے بتایا کہ اس جنگ کے آغاز کے بعد سے صحت کی خدمات پر کل 133 حملے درج کیے گئے ہیں۔ ان حملوں میں 88 افراد کی جان گئی اور 206 لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 15 ہسپتالوں اور 7 بنیادی صحت مراکز کو نقصان پہنچا، جبکہ 5 ہسپتالوں اور 56 صحت مراکز کو بند کرنا پڑا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے اپیل کی ہے کہ ہسپتالوں، صحت کارکنوں، ایمبولینسوں اور مریضوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
ایک اور واقعے میں جنوبی لبنان کے میفدون علاقے میں ایمبولینس پر حملے ہوئے، جنہیں تین بار مسلسل نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں کم از کم چار پیرامیڈیکل عملے کی جان گئی اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔