ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے محفوظ راستہ فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی جاری ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق، عمان کے ساتھ دیگر معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے،بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق انتظام ایک الگ معاملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز میں مکمل بحری سلامتی بحال کرنا مشکل ہے۔
ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ بنانے کی دھمکی
ایران اور عمان کے درمیان اس معاہدے سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک سخت بیان دیا تھا۔ نیویارک میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں کامیاب ہوگا اور اس کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو امریکہ کا علاقہ قرار دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بعد میں وال اسٹریٹ جرنل نے وائٹ ہاؤس کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ صدر کا یہ بیان ممکنہ طور پر مذاق تھا۔
ایران کا امریکہ کو سخت جواب
ٹرمپ کے بیان پر ایران کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز ایران کے کنٹرول میں ہے اور اس کے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران ہی کرے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کسی دوسرے ملک کا دعویٰ قابل قبول نہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ آبی گزرگاہ اس کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے اور اسے اپنے مفادات کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ دنیا کی تیل کی تجارت کے لیے یہ ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، کیونکہ عالمی سطح پر منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اس راستے سے گزرتا ہے۔ اسی وجہ سے ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کا معاملہ طویل عرصے سے کشیدگی کا سبب بنا ہوا ہے۔ ایران اس علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک چاہتے ہیں کہ یہ راستہ تجارتی جہازوں کے لیے کھلا رہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان ہرمز کو لے کر اختلاف
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس کے بدلے میں واشنگٹن کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کاروائی روکنے اور جوہری معاہدے سے متعلق معاملات پر بات چیت کی پیشکش کی گئی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ مکمل طور پر نہیں کھولا جائے گا جب تک امریکہ جنگ کے خاتمے سمیت ایران کے مطالبات کو تسلیم نہیں کرتا۔ ایران اور عمان کے درمیان محفوظ بحری راستے کا معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پہلے ہی شدید کشیدگی موجود ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق یہ پیش رفت خطے کی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔
ایران اور عمان نے اب صرف بات چیت نہیں بلکہ آبنائے ہرمز کے لیے مخصوص بحری راستوں کے نقشے پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس انتظام کی تکنیکی تفصیلات اور مشترکہ سرکاری اعلان ابھی باقی ہیں۔یہ معاہدہ آبنائے ہرمز کو فوراً مکمل طور پر کھولنے کے برابر نہیں ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ محفوظ راستوں پر اتفاق کے باوجود آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا فیصلہ امریکہ کی ناکہ بندی اور دیگر مطالبات سے جڑا ہوا ہے۔
عمان کا کردار بھی پہلے سے زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق عمان صرف ثالثی نہیں کر رہا بلکہ آبنائے ہرمز کے انتظام میں مستقل کردار حاصل کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ایسا انتظام قبول نہیں کرے گا جس میں تجارتی جہازوں کو اجازت نامے لینے، فیس ادا کرنے یا کسی ایک فریق کے کنٹرول میں آنے کی شرط ہو۔ یہی مسئلہ ایران، عمان اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کی بڑی رکاوٹوں میں شامل ہے۔