حیدرآباد میٹرو ریل کے مسافروں کے لیے جلد ایک بڑی خوشخبری سامنے آ سکتی ہے، کیونکہ میٹرو ریل سروس کے آغاز کے اوقات کو صبح 6 بجے سے تبدیل کرکے 5 بجے کرنے کی تجویز دوبارہ زیر غور آ گئی ہے۔ اس مجوزہ تبدیلی سے ہزاروں روزانہ سفر کرنے والے افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، خاص طور پر وہ مسافر جو ریلوے کے ذریعے دوسرے شہروں سے حیدرآباد آتے یا یہاں سے روانہ ہوتے ہیں۔
حیدرآباد شہر کے اہم ریلوے اسٹیشنز، جیسےسکندرآباد ریلوےاسٹیشن( Secunderabad Railway Station) اور نامپلی ریلوے اسٹیشن (Nampally Railway Station)، پر مختلف ریاستوں سے آنے والی متعدد ٹرینیں علی الصبح 4:30 بجے سے لے کر 7 بجے کے درمیان پہنچتی ہیں۔ اس کے علاوہ Vande Bharat Express، Rajdhani Express اور Telangana Express جیسی اہم ٹرینیں بھی صبح 5 بجے سے 6:20 بجے کے درمیان روانہ ہوتی ہیں۔ ایسے میں میٹرو سروس کی عدم دستیابی مسافروں کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔
فی الحال میٹرو سروس صبح 6 بجے شروع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسٹیشنز تک پہنچتے پہنچتے 6:30 بج جاتے ہیں۔ اس تاخیر کے سبب مسافروں کو متبادل ذرائع جیسے آٹو رکشہ اور کیب استعمال کرنا پڑتے ہیں، جس سے نہ صرف اضافی اخراجات بڑھ جاتے ہیں بلکہ وقت کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافروں کو اس مسئلے کا زیادہ سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیےساوتھ سینٹرل ریلوے (South Central Railway۹ کے جنرل منیجر سنجے کمار شریواستو نے حال ہی میں تلنگانہ حکومت کے چیف سیکریٹری رام کرشنا راؤ کو ایک درخواست پیش کی ہے۔ اس درخواست میں انہوں نے مسافروں کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے میٹرو سروس کے اوقات کو ایک گھنٹہ پہلے کرنے کی سفارش کی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس قسم کی تجویز سامنے آئی ہو۔ گزشتہ سال ستمبر میں بھی ریلوے حکام نے Hyderabad Metro Rail Limited کے منیجنگ ڈائریکٹر کو اس حوالے سے خط لکھا تھا، تاہم اس وقت ایل اینڈ ٹی میٹرو انتظامیہ نے رات کے وقت ٹریک کی دیکھ بھال اور دیگر تکنیکی مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔
اب ایک بار پھر یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہے جب حکومت کے اعلیٰ سطحی حکام نے اس میں دلچسپی دکھائی ہے۔ چیف سیکریٹری نے میٹرو حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے امکانات کا جائزہ لیں اور مسافروں کی سہولت کو اولین ترجیح دیں۔ اس حکومتی مداخلت کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس حوالے سے کوئی مثبت فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔
یہ مجوزہ تبدیلی نہ صرف ریلوے مسافروں کے لیے فائدہ مند ہوگی بلکہ ان ملازمین کے لیے بھی بڑی سہولت کا باعث بنے گی جو صبح سویرے اپنی ملازمت کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ایسے افراد کو بسوں یا نجی گاڑیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کے روزمرہ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر میٹرو سروس صبح 5 بجے شروع کی جاتی ہے تو اس سے شہر میں ٹریفک کے دباؤ میں بھی کمی آئے گی اور عوامی نقل و حمل کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔ حکومت کے مثبت رویے اور حکام کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حیدرآباد کے عوام کو جلد ہی اس حوالے سے خوشخبری مل سکتی ہے۔