حیدرآباد ٹریفک پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ایک ہفتے تک خصوصی مہم چلائی، اس مہم کے دوران مجموعی طور پر 1,349 مقدمات درج کیے گئے۔ یہ مہم 12 سے 18 اگست تک جاری رہی۔ اس دوران ٹریفک پولیس نے خاص طور پر دو طرح کی خلاف ورزیوں پر کاروائی کی۔
فری لیفٹ روکنے پر 1,015 مقدمات
مہم کے دوران فری لیفٹ کا راستہ روکنے کے 1,015 مقدمات درج کیے گئے۔ فری لیفٹ سے مراد سڑک کا وہ راستہ ہے جہاں گاڑیوں کو بائیں جانب مڑنے کے لیے راستہ دیا جاتا ہے۔ ٹریفک پولیس نے موٹرسائیکل اور دیگر گاڑی چلانے والوں سے کہا ہے کہ وہ اس راستے کو بلاک نہ کریں تاکہ جنکشن پر ٹریفک آسانی سے چلتی رہے۔
نابالغوں کے گاڑی چلانے پر 334 کیس
مہم کے دوران نابالغوں کے گاڑی چلانے کے 334 مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ٹریفک پولیس نے والدین اور گاڑیوں کے مالکان کو خبردار کیا ہے کہ وہ نابالغ بچوں کو گاڑی یا موٹرسائیکل چلانے کی اجازت نہ دیں۔ پولیس کے مطابق کسی ایسے شخص کو گاڑی چلانے کی اجازت دینا جس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے، قانونی خلاف ورزی ہے اور اس کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے۔
ٹریفک پولیس کی مہم جاری رہے گی
حیدرآباد ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کا نظم بہتر بنانے اور حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایسی کاروائیاں جاری رہیں گی۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں اور ٹریفک اہلکاروں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ سڑکوں پر آمدورفت محفوظ اور آسان بنائی جا سکے۔ شہری ٹریفک کی خلاف ورزیوں کی اطلاع حیدرآباد ٹریفک پولیس کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے دے سکتے ہیں یا ٹریفک ہیلپ لائن پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
یہ کاروائی صرف ایک دن کی نہیں تھی، خصوصی مہم 12 سے 18 اگست تک پورے ایک ہفتے جاری رہی، جس میں 1,015 فری لیفٹ روکنے اور 334 نابالغ ڈرائیونگ کے کیس شامل تھے۔ فری لیفٹ روکنے کو پولیس صرف ٹریفک کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ٹریفک جام اور حادثات کے خطرے کی وجہ بھی قرار دیتی رہی ہے۔
فروری 2026 میں صرف 10 دن کی ایک الگ مہم میں ایسے 9,142 کیس درج کیے گئے تھے۔ نابالغ ڈرائیونگ حیدرآباد میں ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جنوری سے مئی 2026 کے درمیان ہی نابالغوں کے گاڑی چلانے کے 2,539 کیس درج ہوئے تھے اور 719 گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کی گئی تھی۔پولیس نے والدین اور گاڑی مالکان کو خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ نابالغ یا بغیر لائسنس شخص کو گاڑی دینے پر مالک کے خلاف بھی قانونی کاروائی ہو سکتی ہے۔ اسی عرصے میں حیدرآباد ٹریفک پولیس نے، کے بی آر پارک کے اطراف 18 اگست سے ون وے ٹریفک نظام بھی نافذ کیا ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔