بھارت کے لیے توانائی کی سپلائی کے محاذ پر ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایل این جی ٹینکر 'دیشا' آبنائے ہرمز کا بحفاظت سفر مکمل کرنے کے بعد گجرات کی دہیج بندرگاہ پہنچ گیا۔ مالٹا کے جھنڈے والا یہ ٹینکر تقریباً 62,370 میٹرک ٹن مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے کر آیا ہے۔
بھروچ پورٹ اتھارٹی کے مطابق، ایل این جی سی دیشا آج صبح دہیج بندرگاہ پر پہنچا اور اس وقت پیٹرونیٹ ایل این جی کی جیٹی پر لنگر انداز ہے۔ یہ تقریباً ساڑھے تین ماہ قبل ایران سے متعلق کشیدگی شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز عبور کرنے والا پہلا بھارتی ایل این جی ٹینکر بن گیا ہے۔
یہ جہاز شپنگ کارپوریشن آف انڈیا کی قیادت میں ایک کنسورشیم کے زیر انتظام چلایا جا رہا ہے، جبکہ اسے پیٹرونیٹ ایل این جی لمیٹڈ نے چارٹر کیا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے پہلے تجارتی جہازوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے حکام کے مطابق، ٹینکر نے 15 جون کو آبنائے ہرمز عبور کی تھی اور اپنے مقررہ وقت کے مطابق دہیج بندرگاہ پہنچ گیا۔
بھارت اپنی قدرتی گیس کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ درآمد شدہ ایل این جی کے ذریعے پورا کرتا ہے، جس میں تقریباً 65 فیصد سپلائی قطر سمیت خلیجی ممالک سے حاصل کی جاتی ہے۔ یہ سپلائی زیادہ تر آبنائے ہرمز کے اہم سمندری راستے سے بھارت تک پہنچتی ہے۔
حال ہی میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے بعد تہران نے 60 دنوں کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت کی اجازت دی، جس کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں کچھ استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے۔ دیشا کی محفوظ آمد کو بھارت کی توانائی سلامتی اور خطے میں بحری تجارت کی بحالی کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔