بی جے پی کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی راجیہ سبھا میں پوزیشن مزید مضبوط ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اگرچہ اتحاد ابھی دو تہائی اکثریت سے کچھ فاصلے پر ہے، تاہم حالیہ راجیہ سبھا انتخابات کے بعد اس کی نشستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
10 ریاستوں میں راجیہ سبھا کی 27 نشستوں کے لیے ہوئے انتخابات کے بعد این ڈی اے کی مجموعی تعداد 152 ارکان تک پہنچ گئی ہے۔ ابتدائی طور پر بلامقابلہ منتخب ہونے والے 24 امیدواروں میں سے 19 کا تعلق این ڈی اے سے تھا، جبکہ جھارکھنڈ سے پرمل ناتھوانی کی جیت کے بعد اتحاد کو مزید تقویت ملی۔ اب این ڈی اے دو تہائی اکثریت کے ہدف سے صرف 11 نشستیں دور بتایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ترنمول کانگریس میں اندرونی اختلافات بھی سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ ٹی ایم سی کے چند باغی راجیہ سبھا ارکان کے استعفوں کے بعد یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ آنے والے وقت میں این ڈی اے کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے، خصوصاً مغربی بنگال کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے بعد۔
بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی (وائی ایس آر سی پی) اگرچہ این ڈی اے کا باضابطہ حصہ نہیں ہیں، تاہم ماضی میں کئی اہم مواقع پر انہوں نے حکومت کی حمایت کی ہے۔ ان جماعتوں کے پاس راجیہ سبھا میں مجموعی طور پر 12 نشستیں ہیں، جو کسی بھی بڑے قانون سازی کے عمل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آئینی ترمیمی بلوں کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے۔ اگر این ڈی اے یہ ہدف حاصل کر لیتا ہے تو مستقبل میں حد بندی جیسے اہم بلوں کی منظوری کا راستہ آسان ہو سکتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ مودی حکومت مانسون اجلاس کے دوران حد بندی سے متعلق بل پیش کرنے پر غور کر سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
ادھر کانگریس کی قیادت والے انڈیا اتحاد کی راجیہ سبھا میں تعداد کم ہو کر تقریباً 64 ارکان رہ گئی ہے۔ ڈی ایم کے اور عام آدمی پارٹی کے اتحاد سے دور ہونے کے بعد اپوزیشن کی پارلیمانی طاقت مزید کمزور دکھائی دے رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کی نظر اب آنے والے دنوں میں ہونے والی سیاسی پیش رفت، خصوصاً ترنمول کانگریس میں ممکنہ تبدیلیوں اور دیگر غیر وابستہ جماعتوں کے موقف پر مرکوز ہے، کیونکہ یہی عوامل راجیہ سبھا میں طاقت کے توازن کو مزید بدل سکتے ہیں۔