حیدرآباد میں ایک انتہائی افسوسناک اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چھ ماہ کے ایک بچے کی تدفین کے چند گھنٹے بعد اس کی لاش قبر سے غائب ہوگئی۔ یہ واقعہ پنجہ گٹہ کے ہندوشمشان میں پیش آیا، جس کے بعد غمزدہ خاندان شدید صدمے میں مبتلا ہے۔ یہ بچہ جڑواں بچوں میں سے ایک تھا۔ دونوں بچے صحت سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث اسپتال میں زیر علاج تھے اور دونوں کی موت ایک دوسرے کے ایک دن کے اندر ہوئی۔ خاندان نے پہلے بچے کی تدفین کے بعد دوسرے بچے کی موت پر دوبارہ اسی قبرستان کا رخ کیا، لیکن وہاں پہنچ کر انہیں ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے ان کے دکھ کو مزید بڑھا دیا۔
جڑواں بچوں میں ایک کی موت
رپورٹ کے مطابق چارمینار کے گھانسی بازار سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کے چھ ماہ کے جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے۔ دونوں بچوں کو صحت سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے بنجارہ ہلز کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اس دوران ہفتے کے روز ایک بچے کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور اس کی موت ہوگئی۔ بچے کی موت کے بعد خاندان نے اس کی آخری رسومات کی تیاری کی اور اسے دفنانے کے لیے پنجگٹہ قبرستان لے جانے کا فیصلہ کیا۔
بچے کو پنجہ گٹہ شمشان گھاٹ میں دفن کیا
اتوار کے روز خاندان چھ ماہ کے بچے کی لاش لے کر بنجارہ ہلز کے روڈ نمبر 3 پر واقع پنجگٹہ ہندو قبرستان پہنچا۔ وہاں بچے کو دفن کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق قبرستان کے عملے نے تدفین کے لیے خاندان سے مبینہ طور پر 2500 روپے وصول کیے تھے۔ تدفین مکمل ہونے کے بعد خاندان واپس گھر چلا گیا۔ اس وقت خاندان کو اس بات کا اندازہ بھی نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد انہیں ایک اور صدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسرے جڑواں بچے کی بھی موت ہوگئی
پہلے بچے کی موت کے چند گھنٹوں بعد دوسرے جڑواں بچے کی طبیعت بھی خراب ہوگئی اور وہ بھی دم توڑ گیا۔ دونوں بچوں کے والدین پہلے ہی ایک بچے کی موت کے غم میں تھے اور اب دوسرے بچے کی موت نے انہیں شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ پیر کی دوپہر خاندان دوسرے بچے کی لاش لے کر دوبارہ اسی جگہ پہنچا۔ ان کا ارادہ تھا کہ دوسرے بچے کی بھی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد دونوں جڑواں بچوں کو ایک ساتھ دفن کیا جائے۔
شمشان گھاٹ پہنچ کر خاندان کو بڑا صدمہ
جب خاندان پہلے بچے کی قبر کے پاس پہنچا تو انہیں معلوم ہوا کہ قبر کی جگہ پہلے ہی کھودی جا چکی ہے۔ خاندان کے افراد نے دیکھا کہ بچے کی لاش قبر میں موجود نہیں تھی۔چھ ماہ کے بچے کی لاش قبر سے غائب ہونے پر خاندان کے افراد حیران اور پریشان ہوگئے۔ ایک طرف وہ دوسرے بچے کی موت کے غم میں مبتلا تھے اور دوسری جانب پہلے بچے کی قبر سے لاش غائب ہونے کی خبر نے انہیں مزید صدمے میں مبتلا کر دیا۔
خاندان نے قبرستان کے عملے سے جواب طلب کیا
واقعے کے بعد خاندان نے قبرستان کے عملے سے اس بارے میں سوالات کیے اور لاش غائب ہونے کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ اس دوران خاندان اور قبرستان کے عملے کے درمیان بحث بھی ہوئی۔ خاندان کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ تدفین کے چند ہی گھنٹوں بعد قبر کس نے کھودی اور بچے کی لاش کہاں لے جائی گئی۔
دوسرے بچے کی آخری رسومات کے بعد پولیس سے رابطہ
خاندان نے دوسرے بچے کی آخری رسومات ادا کیں۔ اس کے بعد وہ معاملے کی شکایت لے کر بنجارہ ہلز پولیس کے پاس پہنچے۔ خاندان نے پولیس کو واقعے سے متعلق تفصیلات بتائیں اور بچے کی لاش قبر سے غائب ہونے کی شکایت درج کرائی۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کر دیں
پولیس نے خاندان کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور بچے کی لاش کے غائب ہونے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس نے قبرستان کے عملے کو مبینہ طور پر حراست میں لے کر ان سے پوچھ تاچھ بھی شروع کر دی ہے۔ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچے کی لاش قبر سے کیسے غائب ہوئی اور قبر کس نے کھودی۔
تحقیقات میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے
پولیس اس معاملے میں مختلف امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ حکام یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قبرستان کے عملے کی جانب سے کوئی غفلت ہوئی، قبر کی جگہ کے حوالے سے کوئی غلط فہمی ہوئی یا لاش کے غائب ہونے کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے۔ فی الحال پولیس نے واقعے کی مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی ہیں۔ تحقیقات جاری ہیں اور حکام قبرستان کے عملے سے پوچھ تاچھ کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بچے کی لاش تدفین کے چند گھنٹوں بعد کہاں گئی۔ غمزدہ خاندان کو اب بھی اپنے بچے کی لاش کے بارے میں جواب کا انتظار ہے۔ پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ پنجہ گٹہ شمشان گھاٹ میں دفن چھ ماہ کے بچہ کی لاش آخر کیسے اور کن حالات میں قبر سے غائب ہوئی۔