بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں این ڈی اے کی شکست کے بعد جے ڈی (یو) کے اندر مختلف آرا سامنے آنے لگی ہیں۔ جے ڈی (یو) کے ایم ایل اے اننت سنگھ نے شکست کی وجہ نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹانے کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام اس فیصلے سے ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام ہی اصل فیصلہ کرنے والی طاقت ہے، جسے وہ ووٹ دیتے ہیں وہی کامیاب ہوتا ہے، اور لوگوں نے نتیش کمار کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا تھا، مگر انہیں ہٹا دیا گیا جو عوام کو پسند نہیں آیا۔
اننت سنگھ کے اس بیان پر جے ڈی (یو) نے خود کو الگ کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔ بدھ کے روز جے ڈی (یو) کوٹے سے وزیر دامودر راوت نے کہا کہ اننت سنگھ ہمیشہ اپنی ذاتی سوچ کا اظہار کرتے ہیں اور ان کا بیان پارٹی کا مؤقف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ نتیش کمار کو ہٹانے پر عوام ناراض ہیں۔ دامودر راوت نے کہا، ہم حکومت میں ہیں اور نتیش کمار کی قیادت میں مسلسل ترقیاتی اہداف پر کام کر رہے ہیں۔ عوام کا اعتماد ہماری حکومت پر برقرار ہے اور ایک انتخابی نتیجے کی بنیاد پر ایسے نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔
بانکی پور میں شکست کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے دامودر راوت نے تسلیم کیا کہ طلبہ کی تحریک کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور پڑا، تاہم پوری شکست کو صرف اسی ایک وجہ سے جوڑنا درست نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ این ڈی اے کی تمام جماعتیں نتائج کا جائزہ لے رہی ہیں اور خامیوں کی نشاندہی کر کے آئندہ کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
ادھر، بنکی پور ضمنی انتخاب کے نتائج کے بعد سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے گزشتہ روز نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے دامودر راوت نے کہا کہ جے ڈی (یو) این ڈی اے حکومت کا حصہ ہے، اس لیے اتحادی جماعتوں کے درمیان اہم سیاسی اور انتخابی امور پر گفتگو ہونا فطری بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور نتیش کمار کے درمیان مختلف قومی اور ریاستی معاملات پر تبادلۂ خیال ہوا، جن میں بنکی پور ضمنی انتخاب میں این ڈی اے کی شکست بھی شامل تھی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی ایک اسمبلی نشست پر شکست کو حکومت کے خلاف عوامی ناراضی کا پیمانہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔
دامودر راوت نے کہا، ہم انتخابی نتیجے کا احترام کرتے ہیں اور کامیاب امیدوار کو مبارکباد دیتے ہیں۔ بی جے پی، جے ڈی (یو) اور این ڈی اے کی دیگر جماعتیں مل کر شکست کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ مستقبل میں بہتر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ بانکی پور کے نتائج کے بعد بہار کی سیاست میں بحث تیز ہوگئی ہے۔ ایک طرف اننت سنگھ جیسے رہنما شکست کو قیادت میں تبدیلی سے جوڑ رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب جے ڈی (یو) کی قیادت اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے انفرادی رائے قرار دے رہی ہے۔