ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کی ادائیگی اگلے تین روز میں شروع ہو گی۔ سپریم لیڈر کی آخری رسومات کے لئے ایران نے بی جے پی کے قومی صدر نتن نبین اور کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے کوبھی مدعو کیا ہے۔ خامنہ ای کی آخر ی رسومات 4 جولائی سے شروع ہوں گے۔ مرکزی تقریبات 5 سے 9 جولائی تک منعقد ہوں گی۔ 28 فروری کو ایران پر امریکی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای (86) اور ان کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوگئے۔ ان کی آخری رسومات اب ادا کی جا رہی ہیں۔
ایرانی حکومت خامنہ ای اور دیگر کی تدفین کے انتظامات کر رہی ہے۔ ان کا جلوس جنازہ نہایت احترام اور شاندار طریقے سے منعقد کرے گا۔ جس کے تحت مختلف ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کو اس تقریب میں مدعو کیا جا رہا ہے۔ ایران پہلے ہی ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو دعوت دے چکا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے پی ایم مودی سے خامنہ ای کے جنازے میں آنے کی درخواست کی ہے ۔ تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر مودی اس تقریب میں شرکت نہیں کر رہے ہیں۔
تاہم حکومت ہند نے ایران کی دعوت قبول کرتے ہوئے باضابطہ طور پر ہندوستان کی جانب سے نمائندے بھیجے گی۔ ہندوستان کی جانب سے مرکزی وزیر پاویترا مارگریتا اور بہار کے گورنر سید عطا حسنین شرکت کریں گے۔ ساتھ ہی ایران نے حال ہی میں بی جے پی صدر نتن نبین اور کانگریس صدر کھرگے کو بھی مدعو کیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا وہ ایران جائیں گے؟۔
جموں و کشمیر انجمنِ شریفیہ کے صدر آغا سید حسن الموسوی نے کہا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے دعوت موصول ہوئی ہے ۔تاکہ وہ شہیدِ اعظم آغا سید علی خامنائی کی آخری رسومات اور تدفین میں شرکت کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ایران جا کر ان رسومات میں حصہ لیں گے۔ اور کشمیر کے عوام و قیادت کی جانب سے خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔آغا سید حسن الموسوی نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید سید کی شہادت کے بعد پوری قوم خود کو غمزدہ اور متاثر محسوس کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں آنے والے دنوں میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔ جن میں مختلف مقامات سے لوگ شرکت کریں گے۔
جلوس جنازہ تقریباً چھ روز تک جاری رہے گا۔ سب سے پہلے خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ جلوس جنازہ 9 جولائی کو مکمل کیا جائے گا۔ ایران کا اندازہ ہے کہ آخری رسومات اور جلوس جنازہ اور تدفین میں تقریبات میں 12 ملین سے 20 ملین کے درمیان لوگ شرکت کریں گے۔ ایرانی حکومت اسی مناسبت سے حفاظتی انتظامات کر رہی ہے۔ یہ نقل و حمل اور طبی انتظامات کے ساتھ ساتھ ٹریفک پابندیوں کی بھی نگرانی کر رہا ہے۔ ایرانی حکومت نے جلوس جنازے کو اس طرح منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ملکی تاریخ میں باقی رہے گا۔