مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے پاکستان کی جانب سے دی گئی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں جس کی قیادت پاکستان کر رہا ہو۔
مذاکرات کےپیش کش کی تردید
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی تھی۔ تاہم ایران نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا ایسے کسی عمل سے کوئی تعلق نہیں۔
براہِ راست مذاکرات نہیں ہوئے
ممبئی میں قائم ایرانی قونصلیٹ جنرل نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ کے ساتھ کوئی براہِ راست مذاکرات نہیں ہوئے۔ ایران کے مطابق، اب تک صرف ثالثوں کے ذریعے غیر مناسب مطالبات موصول ہوئے ہیں۔
پاکستان کی پالیسی کا ایران حصہ نہیں
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات سے متعلق پیشکش اس کی اپنی پالیسی کا حصہ ہے اور ایران اس میں شریک نہیں۔ ایرانی حکام نے الزام عائد کیا کہ امریکہ کی سفارتی پالیسی غیر مستقل ہے اور وہ بار بار اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتا رہتا ہے۔
جنگ کےخاتمے کی کوشش خوش آئند،لیکن
ایران نے اس بات پر زور دیا کہ اس کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔ اگرچہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی کوشش کو خوش آئند قرار دیا گیا، تاہم ایران نے کہا کہ یہ بھی یاد رکھا جانا چاہیے کہ تنازع کا آغاز کس نے کیا۔
پاکستان،سعودی،مصر اور ترکیہ کی بات چیت
دوسری جانب، حال ہی میں اسلام آباد میں پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی میزبانی میں سعودی عرب، مصر اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور اس کے عالمی اثرات پر غور کیا گیا۔
پاکستانی حکام کا دعویٰ
پاکستانی حکام کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہے، تاہم ایران کے تازہ بیان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ماہرین کے مطابق، ایران کے اس مؤقف سے خطے میں سفارتی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔