Thursday, April 02, 2026 | 13 شوال 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایرانیوں کو امریکی عوام سے نہیں ہے کوئی دشمنی،ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط

ایرانیوں کو امریکی عوام سے نہیں ہے کوئی دشمنی،ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Apr 02, 2026 IST

ایرانیوں کو امریکی عوام سے نہیں ہے کوئی دشمنی،ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام خط
ایران سے اہم بیان سامنے آیا ہے مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام کھلے خط میں کہا ہے کہ ایران کے لوگوں کی عام امریکیوں سے کوئی دشمنی نہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے کبھی جنگ یا جارحیت کا راستہ اختیار نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ اپنے دفاع میں کھڑا رہا۔ ساتھ ہی انہوں نے امریکہ پر اسرائیل کے اثر میں کام کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
 
ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی عوام سے مطالبہ کیا  کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موجودہ تنازع پر سوالات اٹھائیں۔پیزشکیان نے خط میں تہران کو سیکیورٹی خطرہ قرار دینے کی تردید کی اور لکھا کہ ایران نے اپنی پوری تاریخ میں کبھی جارحیت، توسیع پسندی، نوآبادیاتی نظام یا غلبہ حاصل کرنے کا راستہ نہیں اپنایا۔ انہوں نے امریکہ کو اسرائیل کا پراکسی قرار دیا۔
 
ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی:
 
صدر پیزشکیان نے لکھا:ایران نے کبھی کوئی جنگ شروع نہیں کی۔ امریکہ نے اپنی فوجی موجودگی ایران کے گرد بڑھا کر حملے کیے، جس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ایسی فوجی موجودگی کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ کوئی بھی ملک ایسے حالات میں اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایران نے جو کچھ کیا ہے وہ محض درست خودمختاری اور دفاع پر مبنی ایک متوازن جواب ہے، نہ کہ جنگ یا حملے کی شروعات۔
 
اس جنگ سے امریکی عوام کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟
 
انہوں نے لکھا کہ ایران پر بار بار دباؤ ڈالا گیا، لیکن اس کے باوجود ملک نے تعلیم، جدید ٹیکنالوجی، صحت کی خدمات اور بنیادی ڈھانچے میں تیزی سے ترقی کی ہے۔  
 
صدر نے پوچھا:جنگ زندگیوں، گھروں، شہروں اور مستقبل کو ایسا نقصان پہنچاتی ہے جس کی تلافی نہیں ہو سکتی۔ لیکن ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اس جنگ سے اصل میں امریکی عوام کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا ایران کی طرف سے کوئی خطرہ تھا؟
 
امریکہ اسرائیل کا پراکسی بن گیا؟
 
پیزشکیان نے لکھا:ایران نے بات چیت جاری رکھی، ایک معاہدے تک پہنچا اور اپنے تمام وعدے پورے کیے۔ اس بات چیت کے درمیان دو حملوں کا فیصلہ بہت خطرناک تھا۔ یہ حملے ایک غیر ملکی حملہ آور کے وہم کو پورا کر رہے تھے۔  
 
انہوں نے سوال کیا:کیا امریکہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے اور اس جنگ میں اسرائیل کا پراکسی بن گیا ہے؟ اسرائیل اپنے جرائم سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور ایران سے آخری امریکی فوجی اور ٹیکس دہندگان کے ڈالر تک لڑنا چاہتا ہے۔
 
ٹکراؤ مہنگا اور بے فائدہ ہے:
 
صدر پیزشکیان نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ ان لوگوں سے بات کریں جو ایران جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں پڑھے لکھے بہت سے کامیاب لوگ دنیا بھر میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔  
 
انہوں نے کہا:ٹکراؤ کا راستہ پہلے سے زیادہ مہنگا اور بے فائدہ ہے۔ اس کا نتیجہ آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کرے گا۔یہ خط ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تناؤ کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔