• News
  • »
  • قومی
  • »
  • احتجاج ختم، رضاکار محمد جنید نظر انداز؟ گھر پر پولیس کا چھاپہ

احتجاج ختم، رضاکار محمد جنید نظر انداز؟ گھر پر پولیس کا چھاپہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 27, 2026 IST

احتجاج ختم، رضاکار محمد جنید نظر انداز؟ گھر پر پولیس کا چھاپہ
دہلی کے جنتر منتر پر ہزاروں لوگ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے، اس وقت محمد جنید کسی سیاسی نعرے یا اسٹیج کی شہرت کا حصہ نہیں تھے۔ وہ خاموشی سے مظاہرین کی خدمت میں مصروف تھے۔ ایک رضاکار کے طور پر انہوں نے مسلسل 35 دن تک دن رات محنت کرتے ہوئے احتجاج میں شریک افراد تک کھانا اور پانی پہنچایا۔ سخت گرمی، طویل اوقات اور مسلسل مصروفیت کے باوجود انہوں نے انسانیت کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا اور بغیر کسی ذاتی مفاد کے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ لیکن جب سی جے پی کے مانگوں کو حکومت نے مان لیا اور احتجاج ختم ہوا تو سی جے پی نے جنید کو نظر انداز کر دیا۔
 
جنید کے گھر پر پولیس کا چھاپہ 
 
دراصل جنید کے اہلِ خانہ کے مطابق اتر پردیش پولیس نے غازی آباد میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں ان کے والد اور کم عمر بھائی کو حراست میں لیا گیا۔ خاندان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران آدھار کارڈ، بینک پاس بک اور دیگر اہم دستاویزات بھی اپنے قبضے میں لے لیے گئے، جس کے بعد پورا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
 
 
ایک طرف جشن، دوسری طرف بے بسی   
 
ایک طرف کامیابی اور جشن کا ماحول ہے، تو دوسری طرف ایک خاندان غم، خوف اور بے بسی کی کیفیت میں زندگی گزار رہا ہے۔ یہ کہانی ہے محمد جنید کی، جس نے مشکل حالات میں اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے کام کیا، مگر آج وہی نوجوان اور اس کا خاندان انصاف کے انتظار میں ہے۔ جنید کے قریبی افراد کا کہنا ہے کہ جس نوجوان نے احتجاج کے دوران انسانیت کی خدمت کی، آج وہ خود قانونی اور انتظامی کارروائیوں کے بوجھ تلے انصاف کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق ایک طرف لوگ کامیابی اور جشن میں مصروف ہیں، جبکہ دوسری طرف جنید کا خاندان خوف اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھ ہر نئے دن کا سامنا کر رہا ہے۔
 
 
اس معاملے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ اگر کسی شخص نے صرف رضاکارانہ خدمات انجام دیں، تو کیا اسے اور اس کے خاندان کو ایسی مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے؟ کیا اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہوں گی؟ اور کیا قانونی عمل کے ذریعے محمد جنید اور ان کے خاندان کو انصاف مل سکے گا؟ اب سب کی نظریں اس مقدمے کی آئندہ پیش رفت پر ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ قانونی ٹیم، جن میں ابھیجیت ڈپکے بھی شامل ہیں، عدالت میں کس طرح اپنا مؤقف پیش کرتی ہے اور کیا یہ قانونی جدوجہد محمد جنید کے خاندان کو انصاف دلا پاتی ہے۔