جاپان میں آنے والے طاقتور زلزلے کے بعد تباہی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ زلزلے سے متاثرہ علاقے میں واقع ایک بڑے شاپنگ مال میں مبینہ طور پر گیس کا شدید دھماکہ ہونے کے بعد عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے فوراً بعد ایشیما میں واقع ایون شاپنگ مال میں گیس لیکج کے باعث زور دار دھماکہ ہوا، جس سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کے بعد ہر طرف ملبہ پھیل گیا اور بڑی تعداد میں لوگ اس کے نیچے دب گئے۔ جاپانی حکام نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس میں فائر بریگیڈ، قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور طبی امدادی ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
امدادی حکام کے مطابق ملبے سے اب تک چار افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 17 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چھ افراد کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ان میں زندگی کی کوئی علامت نہیں ملی، تاہم ریسکیو اہلکار ان تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پانچ زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں قریبی اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
زلزلے کے فوری بعد جاری ہونے والی ابتدائی رپورٹوں میں تقریباً 23 افراد کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملبہ مکمل طور پر ہٹائے جانے اور تمام لاپتہ افراد کا سراغ لگنے تک حتمی اعداد و شمار جاری نہیں کیے جا سکتے، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کا امکان موجود ہے۔
ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری، سرچ کیمروں اور تربیت یافتہ کتوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ حکام نے بتایا کہ متاثرہ عمارت کے کچھ حصے انتہائی غیر محفوظ ہیں، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں احتیاط برتی جا رہی ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔
مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ متاثرہ علاقے سے دور رہیں، افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کریں۔ دوسری جانب جاپانی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا شاپنگ مال میں ہونے والا دھماکہ واقعی گیس لیکج کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور تکنیکی خرابی یا وجہ موجود تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک تمام لاپتہ افراد کو تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ ساتھ ہی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن طبی، مالی اور نفسیاتی امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔