Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جھارکھنڈ حکومت کا بڑا فیصلہ، 39 بھرتی امتحانات منسوخ اور 6 ملتوی

جھارکھنڈ حکومت کا بڑا فیصلہ، 39 بھرتی امتحانات منسوخ اور 6 ملتوی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 19, 2026 IST

جھارکھنڈ حکومت کا بڑا فیصلہ، 39 بھرتی امتحانات منسوخ اور 6 ملتوی
جھارکھنڈ حکومت نے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے میں بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 39 امتحانات منسوخ اور 6 امتحانات اگلی ہدایت تک ملتوی کر دیے ہیں۔ یہ فیصلہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) سے متعلق امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جاری تحقیقات کے درمیان لیا گیا ہے۔ حکومت نے 18 اگست کو اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔

39 بھرتی امتحانات منسوخ

حکومت نے مختلف سرکاری محکموں اور عہدوں سے متعلق 39 امتحانات منسوخ کیے ہیں۔ ان میں حالیہ بھرتیوں کے ساتھ ساتھ کئی سال پرانے امتحانات بھی شامل ہیں۔
 

منسوخ کیے گئے اہم امتحانات میں یہ شامل ہیں:

  •  
  • یونیورسٹیوں میں غیرتدریسی عہدوں پر بھرتی
  • اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سینئر سائنٹسٹ کی بھرتی
  • ڈرگ انسپکٹر کی بھرتی
  • سرکاری انجینئرنگ کالجوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتی
  • سرکاری پولی ٹیکنک کالجوں میں لیکچرر کی بھرتی
  • میڈیکل کالجوں میں اسسٹنٹ پروفیسر کی بھرتی
  • سول جج جونیئر ڈویژن کا امتحان
  • اسسٹنٹ کنزرویٹر آف فاریسٹ
  • فاریسٹ رینج آفیسر
  • اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر
  • جھارکھنڈ مشترکہ سول سروسز امتحان
  • فوڈ سیفٹی آفیسر
  • چائلڈ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ آفیسر
  • زرعی افسر کی بھرتی
  • ڈینٹسٹ کی بھرتی
  • مشترکہ سول سروسز کے مختلف امتحانات
  • جھارکھنڈ اہلیت ٹیسٹ 2024
  • سی جی ایل امتحان
اس فہرست میں کئی ایسے امتحانات بھی شامل ہیں جو 2010 سے 2025 کے درمیان مختلف سالوں میں منعقد یا ان کے لیے اشتہار جاری کیے گئے تھے۔

6 امتحانات فی الحال ملتوی

حکومت نے 6 امتحانات کو منسوخ کرنے کے بجائے اگلی ہدایت تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں فوڈ اینالسٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر پراسیکیوشن، پروجیکٹ مینیجر، فیکٹریز انسپکٹر، بوائلر انسپکٹر اور ڈائریکٹر کے عہدوں سے متعلق امتحانات شامل ہیں۔

JSSC-CGL بھی منسوخ

جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے اس سے پہلے "JSSC-CGL" امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ امتحان منسوخ کرنے کا مطالبہ احتجاج کرنے والے طلبہ کی اہم مانگوں میں شامل تھا۔ حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ 2014 سے آؤٹ سورسنگ کمپنی "TDPL" یعنی "TSR Data Processing Private Limited" کے ذریعے کرائے گئے تمام ملازمت کے امتحانات اور ان کے نتائج کو منسوخ کیا جائے گا۔

 امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے کمیٹی

وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے امتحانی نظام میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی سینئر آئی اے ایس افسر امیتابھ کوشل کریں گے۔ کمیٹی کو امتحانات کے موجودہ نظام کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرنی ہوں گی۔ حکومت نے کمیٹی کو اپنی رپورٹ دینے کے لیے دو ماہ کا وقت دیا ہے۔

 حکومت نے مزید کیا اقدامات کیے؟

حکومت نے جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدانتظامی سے متعلق مقدمات کی تیز سماعت کے لیے ہائی کورٹ سے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ دونوں کمیشنوں میں اندرونی نگرانی کے سیل قائم کرنے اور امتحانات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی بھی بات کہی گئی ہے۔

طلبہ کے احتجاج کے بعد بڑا فیصلہ

جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر طلبہ کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا تھا۔ طلبہ کا مطالبہ تھا کہ جن امتحانات میں گڑبڑی کے الزامات سامنے آئے ہیں، ان کی منصفانہ تحقیقات کی جائیں اور ضرورت پڑنے پر امتحانات دوبارہ کرائے جائیں۔ حکومت کی جانب سے 39 امتحانات منسوخ کرنے اور 6 امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ اسی معاملے میں ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اب حکومت کی جانب سے قائم کی جانے والی امتحانی اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ اہم ہوگی، کیونکہ اس کی سفارشات کی بنیاد پر جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی امتحانات کے طریقہ کار میں مزید تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔