Wednesday, August 19, 2026 | 04 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جھارکھنڈ میں طلبہ کے بعد ملازمین نے بھی شروع کردیا احتجاج

جھارکھنڈ میں طلبہ کے بعد ملازمین نے بھی شروع کردیا احتجاج

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 18, 2026 IST

جھارکھنڈ میں طلبہ کے بعد ملازمین نے بھی شروع کردیا احتجاج
جھارکھنڈ میں "JSSC-CGL" امتحان کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے بعد تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔ طلبہ کے کئی دن تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد اب ان امیدواروں اور سرکاری ملازمین نے بھی حکومت کے خلاف آوازبلند کر دیا ہے، جن کی تقرری اسی امتحانی عمل کے ذریعے ہوئی تھی اور وہ اس وقت مختلف سرکاری عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔

نوکریوں سے نہ ہٹانے کی مانگ 

مظاہرین نے رانچی میں پروجیکٹ بھون کے باہر احتجاج کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ امتحان منسوخ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے پہلے سے ملازمت کر رہے ملازمین کو ان کی نوکریوں سے نہ ہٹایا جائے۔ ملازمین نے کہا کہ انہوں نے مقررہ طریقے سے امتحان پاس کیا، انتخاب کے بعد انہیں سرکاری عہدے دیے گئے اور وہ کئی عرصے سے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر امتحان کے انعقاد میں کسی قسم کی بے ضابطگی ہوئی بھی ہے تو اس کی سزا ان لوگوں کو نہیں ملنی چاہیے جن کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔

ملازمین نے حکومت پر کیا لگایا الزام؟

احتجاج کرنے والے ملازمین کا الزام ہے کہ حکومت نے طلبہ کے احتجاج کے دباؤ میں آ کر "JSSC-CGL" امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت صرف ایک فریق کی بات سن کر ایسا فیصلہ نہیں کر سکتی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی امتحان پاس کر کے سرکاری ملازمت حاصل کر چکے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں، ان کی ملازمت ختم کرنے کے لیے صرف زبانی حکومتی کی ہدایت کافی نہیں ہو سکتی ملازمین نے واضح کیا کہ اگر معاملہ عدالت تک پہنچتا ہے تو وہ قانونی طریقے سے اپنی ملازمتوں کا دفاع کریں گے۔

تقریباً 2000 ملازمتیں متاثر ہونے کا دعویٰ

احتجاج کرنے والے ملازمین کا دعویٰ ہے کہ امتحان منسوخ ہونے کے فیصلے سے تقریباً 2000 سرکاری ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ مظاہرین میں شامل چندا کماری نے کہا کہ اگر امتحان میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات ہونی چاہیے، لیکن ایسے امیدواروں کو سزا نہیں دی جانی چاہیے جنہوں نے ایمانداری سے امتحان پاس کیا اور بعد میں سرکاری ملازمت حاصل کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کچھ لوگوں کی جانب سے غلطی یا بے ضابطگی کی گئی ہے تو پورا امتحان منسوخ کرنا اس مسئلے کا مناسب حل کیسے ہو سکتا ہے۔ چندا کماری نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت نے گزشتہ 24 دنوں سے جاری تنازع میں صرف طلبہ کا مؤقف سنا ہے، جبکہ پہلے سے ملازمت کر رہے امیدواروں کو اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع نہیں دیا گیا۔

صرف "JSSC-CGL" نہیں، TDPL کے ذریعے 2014 سے ہونے والے تمام امتحانات بھی منسوخ

 حکومت نے صرف "JSSC-CGL" منسوخ نہیں کیا بلکہ" TSR Data Processing Private Limited " کے ذریعے 2014 سے اب تک کرائے گئے تمام امتحانات، ان کے نتائج اور ان سے متعلق تقرریوں کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طلبہ کا احتجاج کیوں شروع ہوا تھا؟

جھارکھنڈ میں طلبہ کا احتجاج "JPSC "اور" JSSC "کے ذریعے منعقد کئے  جانے والے مختلف بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور امتحانی عمل میں شفافیت کی کمی کے الزامات کے بعد شروع ہوا تھا۔ طلبہ نے 29 جولائی کو رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم سے احتجاج شروع کیا تھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ متنازع امتحانات منسوخ کیے جائیں، مبینہ بے ضابطگیوں کی مرکزی تفتیشی بیورو یعنی "CBI" سے تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کاروائی کی جائے۔ 24 دن تک احتجاج جاری رہنے کے بعد ریاستی حکومت نے پیر کو طلبہ کے بیشتر مطالبات تسلیم کر لیے۔  حکومت نے معاملے کی "CBI" تحقیقات کرانے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔

JSSC-CGL امتحان کیا ہے؟

"JSSC-CGL" کا پورا نام "Jharkhand Staff Selection Commission – Combined Graduate Level Examination" ہے۔ یہ جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن کی جانب سے گریجویٹ امیدواروں کے لیے لیا جانے والا سرکاری بھرتی امتحان ہے۔ اس امتحان کے ذریعے جھارکھنڈ حکومت کے مختلف محکموں میں کئی سرکاری عہدوں پر امیدواروں کی تقرری کی جاتی ہے۔ ان عہدوں میں اسسٹنٹ برانچ آفیسر، جونیئر سیکریٹریٹ اسسٹنٹ، لیبر انفورسمنٹ آفیسر، پلاننگ اسسٹنٹ اور بلاک سپلائی آفیسر جیسے عہدے شامل ہیں۔

اب تنازع کس بات پر ہے؟

اس وقت معاملہ دو گروپوں کے درمیان بٹتا نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف طلبہ ہیں، جو امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات اور منسوخی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری طرف وہ امیدوار اور سرکاری ملازمین ہیں، جنہیں اسی امتحانی عمل کے ذریعے ملازمت ملی اور جو اب امتحان کی منسوخی کے فیصلے سے اپنی نوکریوں کے مستقبل کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں۔ ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت امتحان کو منسوخ کرتی ہے تو اس کا اثر ان امیدواروں پر نہیں پڑنا چاہیے جو پہلے ہی انتخاب کے بعد سرکاری عہدوں پر تعینات ہو چکے ہیں۔ اب یہ معاملہ قانونی رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے اور احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ملازمتوں کے تحفظ کے لیے عدالت کا راستہ اختیار کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

حکومت نے امتحانی اصلاحات کے لیے نئی کمیٹی بنائی

وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے سینئر "IAS" افسر امیتابھ کوشل کی سربراہی میں ایک امتحانی اصلاحات کمیٹی بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد ریاست میں بھرتی امتحانات کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تجاویز دینا ہے۔

حکومت نے تحقیقات میں کچھ حیران کن باتیں سامنے آنے کا دعویٰ کیا

ہیمنت سورین نے کہا کہ امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی "CID" اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم "SIT" کی تحقیقات کے دوران کچھ "حیران کن عوامل" سامنے آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ فی الحال ان تفصیلات کو ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بعض کمپنیوں کے ایک بڑے امتحانی نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا۔