• News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • جھارکھنڈ:جے ایس ایس سی امتحانات میں بدعنوانی کےخلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت، دیویندرمہتو کوہٹانےکی کوشش کا الزام

جھارکھنڈ:جے ایس ایس سی امتحانات میں بدعنوانی کےخلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت، دیویندرمہتو کوہٹانےکی کوشش کا الزام

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 09, 2026 IST

جھارکھنڈ:جے ایس ایس سی امتحانات میں بدعنوانی کےخلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت، دیویندرمہتو کوہٹانےکی کوشش کا الزام
جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ حکومت اور طلبہ کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت کے باوجود معاملہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا ہے۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے رانچی میں احتجاج کی قیادت کرنے والے جھارکھنڈ لوک تانترک کرانتی کاری مورچہ "جے ایل کے ایم" کے رہنما دیویندر ناتھ مہتو کو احتجاجی مقام سے ہٹانے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے اس کاروائی کا موازنہ سماجی کارکن سونم وانگچک کے معاملے سے کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت طلبہ کے احتجاج کو کمزور کرنے اور ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق طلبہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن احتجاج کر رہے ہیں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
 
ایک احتجاجی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات دیویندر ناتھ مہتو کو احتجاجی مقام سے لے جانے کی کوشش کی گئی۔ اس نے الزام لگایا کہ انتظامیہ شاید انہیں وہاں سے ہٹانا چاہتی ہے تاکہ احتجاج کی شدت کم ہو جائے۔ احتجاجی نے مزید کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ جب تک دیویندر ناتھ مہتو احتجاجی مقام پر موجود رہیں گے، تحریک مزید مضبوط ہوگی اور مظاہرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

حکومت اور طلبہ کے درمیان آج پھر مذاکرات

طلبہ اور ریاستی حکومت کے درمیان اب تک پانچ مرتبہ  بات چیت ہو چکی ہے، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ حکومت اور طلبہ کے نمائندے اتوار کو ایک بار پھر مذاکرات کریں گے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ طلبہ کے مطالبات اور مسائل سے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کو آگاہ کر دیا گیا ہے اور حکومت اس معاملے میں مناسب اقدامات کر رہی ہے۔

 بی جے پی نے حکومت کو نشانہ بنایا

مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہونے پر بھارتیہ جنتا پارٹی "بی جے پی" نے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین کی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ بی جے پی نے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ اتوار کو مرکزی وزیر سنجے سیٹھ نے جھارکھنڈ بی جے پی کے صدر آدتیہ ساہو کے ساتھ رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں احتجاج کرنے والے طلبہ سے ملاقات کی۔ سنجے سیٹھ نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ ہوتی تو وزیر اعلیٰ کو پہلے ہی دن مظاہرین سے ملاقات کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے طلبہ کے مطالبے کے مطابق مبینہ بے ضابطگیوں کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کی حمایت کی۔ انہوں نے اپوزیشن پر دوہرے معیار کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ اگر اپوزیشن واقعی طلبہ کے ساتھ ہے تو اسے رانچی آکر ان کے احتجاج کی حمایت کرنی چاہیے۔
 
فی الحال طلبہ کا احتجاج جاری ہے اور سب کی نظریں حکومت اور طلبہ کے درمیان ہونے والے اگلے دور کے مذاکرات پر ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ دونوں فریق کسی سمجھوتے پر پہنچتے ہیں یا احتجاج مزید شدت اختیار کرتا ہے۔