جھارکھنڈ کے رانچی میں طلبہ کا احتجاج جاری ہے اور طلبہ نے آج اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان کیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر ابھی تک خاطر خواہ کارروائی نہیں کی گئی، جس کے باعث وہ احتجاج کو مزید تیز کرنے پر مجبور ہیں۔طلبہ نے الزام لگایا کہ حکومت نے اب تک ان کے پانچ فیصد مطالبات بھی پورے نہیں کیے ہیں۔ اسی وجہ سے طلبہ نے اسمبلی کے گھیراؤ کا فیصلہ کیا ہے۔ مظاہرین نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان کی آواز کی حمایت میں آگے آئیں اور احتجاج میں ان کا ساتھ دیں۔
جے ایم ایم کے ترجمان منوج پانڈے کا ردعمل
دوسری جانب طلبہ کے احتجاج پر جے ایم ایم کے ترجمان منوج پانڈے کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی جانب سے جو کچھ ممکن ہے، وہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ منوج پانڈے نے کہا کہ حکومت کو امید تھی کہ طلبہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کامیاب ہوگی، تاہم مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے۔انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اپنی ضد چھوڑیں اور حکومت کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ منوج پانڈے کے مطابق وزیر اعلیٰ طلبہ کے مسائل اور ان کے مستقبل کے حوالے سے مثبت سوچ رکھتے ہیں اور حکومت معاملے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
تاہم دوسری جانب طلبہ اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پر ٹھوس کارروائی نہیں ہوتی، احتجاج جاری رہے گا۔اب سب کی نظریں آج ہونے والے اسمبلی گھیراؤ پر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور طلبہ کے درمیان جاری تعطل ختم ہوگا یا احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا؟ صورتحال کو دیکھتے ہوئے رانچی میں انتظامیہ کی جانب سے بھی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے جانے کا امکان ہے۔