کیرلم میں طویل سیاسی رسہ کشی کے بعد کانگریس نے آخر کار وی ڈی ستیشن کو ریاست کی باگ ڈور سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جہاں ایک طرف کے سی وینوگوپال کا نام زیرِ بحث تھا، وہیں پارٹی کارکنوں کی پسند اور زمینی کارکردگی نے ستیشن کو اس عہدے کا مضبوط ترین دعویدار بنا دیا۔ آئیے جانتے ہیں کہ کیرلم کے نئے وزیر اعلیٰ کا اب تک کا سفر کیسا رہا ہے۔
کیرالہ ہائی کورٹ میں وکالت سے سیاست تک:
31 مئی 1964 کو ایرناکولم کے علاقے نیتور میں پیدا ہونے والے وی ڈی ستیشن کے والد محکمہ جنگلات میں افسر تھے۔ ستیشن نے سوشل ورک میں پوسٹ گریجویشن کرنے کے بعد تھرواننت پورم کے سرکاری کالج سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ سیاست میں قدم رکھنے سے پہلے انہوں نے چند سال کیرالہ ہائی کورٹ میں بطور وکیل پریکٹس بھی کی۔
پہلی شکست سے 6 بار مسلسل جیت کا سفر:
ستیشن نے اپنی سیاست کا آغاز 80 کی دہائی میں طالب علم رہنما کے طور پر کیا۔ 1996 میں انہوں نے 'پارا وور' (Paravur) سے اپنا پہلا اسمبلی انتخاب لڑا، لیکن وہ محض 1,116 ووٹوں سے ہار گئے۔ تاہم، یہ شکست ان کے حوصلے پست نہ کر سکی۔
2001 میں پارا وور سے پہلی جیت حاصل کی،اس کے بعد انہوں نے مسلسل 6 بار اسی نشست سے کامیابی حاصل کی اور اسے کانگریس کا ناقابلِ تسخیر قلعہ بنا دیا۔
2021 میں انہیں اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا۔2026 میں حالیہ انتخابات میں انہوں نے سی پی آئی کے ای ٹی ٹائسن کو 20,000 سے زائد ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔
سیاسی قد میں اضافہ:
بطور لیڈر آف اپوزیشن، ستیشن اپنی مدلل گفتگو اور مسائل کے گہرے تجزیے کے لیے مشہور رہے۔ انہوں نے پارٹی کے اندرونی دھڑوں سے دوری اختیار کی اور صرف عوامی مسائل پر توجہ دی۔ ان کی قیادت میں،2024 لوک سبھا انتخابات میں یو ڈی ایف (UDF) نے 20 میں سے 18 نشستیں جیتیں،2025 بلدیاتی انتخابات میں کانگریس کی شاندار کامیابی نے ستیشن کی قیادت پر مہر لگا دی۔
ماضی کی مایوسی اور صبر کا پھل:
ایک وقت ایسا بھی تھا جب ستیشن کو پارٹی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے کئی بار نظر انداز کیا گیا۔ وہ یوتھ کانگریس اور کے پی سی سی (KPCC) کی صدارت کے امیدوار تھے اور 2011 میں وزارت کے بھی مضبوط دعویدار تھے، لیکن انہیں موقع نہیں دیا گیا۔ تاہم، 2021 میں اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد انہوں نے خود کہا کہ اس ذمہ داری نے ماضی کی تمام محرومیوں کا ازالہ کر دیا ہے۔
ماحولیات کے علمبردار:
وی ڈی ستیشن کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کے لیے بے باک آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ انہوں نے مغربی گھاٹ کے تحفظ کے لیے مادھو گاڈگل کمیٹی کی رپورٹ کی کھل کر حمایت کی، جس کے لیے انہیں اپنی ہی پارٹی کے اندر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ 2024 میں وائناڈ کے لینڈ سلائیڈنگ واقعے کے بعد انہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نظام پر کڑی تنقید کی اور پائیدار ترقی (Sustainable Development) کی پالیسیوں پر زور دیا۔
ایک وکیل کی باریک بینی، ایک منجھے ہوئے سیاست دان کا تجربہ اور ایک ماہرِ ماحولیات کی فکر مندی،یہ وہ خوبیاں ہیں جو وی ڈی ستیشن کو کیرلم کے ایک منفرد وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کرتی ہیں۔