بالی ووڈ اداکارہ کریتی سینون ایک حالیہ رکشا بندھن کے اشتہار کی وجہ سے سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ جیولری برانڈ کے اس اشتہار میں کریتی اپنے کتے کو راکھی باندھتی نظر آتی ہیں۔ اشتہار میں ان کے لباس کو لے کر بھی سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ اسی معاملے پر بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ اور اداکارہ کنگنا رناوت نے بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ رکشا بندھن جیسے تہوار کے موقع پر خواتین کے پاس پہننے کے لیے بہت سے دوسرے لباس موجود ہیں تو پھر ایسے لباس کا انتخاب کیوں کیا گیا۔
کنگنا رناوت نے کیا کہا؟
کنگنا نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں خواتین کے لباس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی خواتین کے پاس مختلف قسم کے لباس پہننے کے بہت سے انتخاب موجود ہیں۔ ان کی اس پوسٹ کو کریتی کے اشتہار پر تنقید کے طور پر دیکھا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی۔
کریتی نے جواب دیا
کنگنا کی تنقید کے بعد کریتی نے بھی اپنا ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی تہوار کی اصل اہمیت اس بات میں نہیں ہوتی کہ کوئی شخص کیا لباس پہنتا ہے، بلکہ اس تہوار سے جڑے جذبات اور روایت زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ کریتی نے رکشا بندھن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھائی بہن کے درمیان محبت اور ایک دوسرے کی حفاظت کے وعدے کا تہوار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی بہن ایک دوسرے کو راکھی باندھتی ہیں اور دونوں جانتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
راہول گاندھی کریتی کی حمایت میں آگئے
اس بحث میں کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے کریتی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عورت کیا پہنتی ہے، کیا کرتی ہے اور کہاں جاتی ہے، یہ اس کی اپنی مرضی ہونی چاہیے۔ راہول گاندھی نے خواتین کو سوشل میڈیا پر ان کی آزادی اور انتخاب کے لیے تنقید یا ٹرولنگ کا نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی۔
کنگنا نے راہل گاندھی کو بھی جواب دیا
راہل گاندھی کے بیان کے بعد کنگنا رناوت نے بھی جواب دیا۔ انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راہول گاندھی کے مؤقف پر تنقید کی۔ کنگنا نے کہا کہ جو لوگ ان پر ذاتی تنقید کرتے ہیں یا ان کی پرورش پر سوال اٹھاتے ہیں، انہیں پہلے ان جیسی کامیابی حاصل کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے لوگوں سے مشورہ نہیں لیں گی جنہیں وہ ناکام یا نااہل سمجھتی ہیں۔ یوں ایک جیولری برانڈ کے رکشا بندھن کے اشتہار سے شروع ہونے والی بحث کنگنا رناوت، کریتی اور راہول گاندھی کے درمیان سوشل میڈیا پر بیان بازی تک پہنچ گئی ہے۔