ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سینئر رہنما کیرتی آزاد نے پارٹی چھوڑ کر این سی پی آئی میں شامل ہونے والے باغی ارکان پارلیمنٹ کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغی دھڑے میں شامل 7 سے 8 ارکان پارلیمنٹ دراصل این ڈی اے اتحاد میں شامل ہونا نہیں چاہتے، لیکن وہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان ارکان کو مختلف حالات میں پارٹی چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ ان کے اہل خانہ کو بھی مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔
کیرتی آزاد نے این سی پی آئی کی قانونی حیثیت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا، "این سی پی آئی کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت نہیں ہے، اس لیے اسپیکر کے لیے بھی اس معاملے پر فیصلہ کرنا آسان نہیں۔ ان 7 سے 8 ارکان پارلیمنٹ کی حیثیت اب بھی واضح نہیں ہے۔ وہ این ڈی اے میں شامل نہیں ہونا چاہتے، لیکن سب جانتے ہیں کہ ان پر کس قسم کا دباؤ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترنمول کانگریس دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے اور پارٹی کی قیادت صرف ممتا بنرجی کے ہاتھ میں ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کے کئی ناراض رہنما بھی واپسی کے خواہش مند ہیں۔ کیرتی آزاد کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب این سی پی آئی کے تین ارکان پارلیمنٹ—خلیل الرحمن، ابو طاہر خان اور یوسف پٹھان 4 اگست کو ہونے والی این ڈی اے اتحادیوں کی اہم میٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ اس سے قبل بھی یہ تینوں 28 جون کو منعقد ہونے والی این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کی پہلی میٹنگ سے غیر حاضر رہے تھے، جس کے بعد ان کے سیاسی مؤقف کو لے کر قیاس آرائیاں تیز ہوگئی تھیں۔
اسی دوران ابو طاہر خان کے بیان نے بھی سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ہم نہ این ڈی اے کا حصہ ہیں اور نہ ہی بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔ آج این ڈی اے کی میٹنگ تھی لیکن ہم تینوں اس میں شریک نہیں ہوئے۔ البتہ سویندو ادھیکاری کی جانب سے بلائی گئی میٹنگ میں ضرور شرکت کریں گے۔
دلیپ گھوش کا کیرتی آزاد کے بیان پر ردعمل
دوسری جانب ٹی ایم سی کے سینئر رہنما دلیپ گھوش نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی چھوڑنے والے کئی ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی دوبارہ ترنمول کانگریس میں واپس آنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد باغی رہنما مسلسل ممتا بنرجی کے رابطے میں ہیں اور واپسی کے امکانات پر بات چیت جاری ہے۔ دلیپ گھوش نے بی جے پی پر بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ باغی رہنماؤں پر دباؤ ڈالنے کے لیے مرکزی تفتیشی ایجنسیاں اور پولیس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے سرکاری اداروں کا استعمال جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ ان بیانات کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل تیز ہو گئی ہے، جبکہ باغی ارکان کی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ واپسی کے امکانات پر نظریں مرکوز ہیں۔