• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کے لیے موت کی سزا کا قانون

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کے لیے موت کی سزا کا قانون

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Sahjad Alam | Last Updated: Mar 30, 2026 IST

اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کے لیے موت کی سزا کا قانون
 
اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) ایک انتہائی متنازع بل پر ووٹنگ کی تیاری کر رہی ہے۔ اس بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ویسٹ بینک میں فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کے قتل کے مقدمات میں  انہیں(فلسطینیوں ) موت کی سزا دی جائے ۔
 
یہ بل کئی سالوں سے اسرائیل کے دائیں بازو کے رہنماؤں کی ترجیح رہا ہے اور اسے قومی سلامتی کے وزیر اتامار بین گویر کی بڑی سیاسی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
 
بل پر پارلیمانی بحث سوموار (30 مارچ 2026) کو شروع ہوئی، اگر یہ بل منظور ہو جاتا ہے تو اسے فلسطینیوں کے خلاف سزاؤں کو مزید سخت کرنے کی جانب ایک بڑا قدم سمجھا جائے گا۔
 
بل میں کیا ہے؟
 
 اگر کسی فلسطینی کو اسرائیلی شہری کے قتل کا مجرم ٹھہرایا جاتا ہے اور اسے "دہشت گردی کا عمل" قرار دیا جاتا ہے تو اسے موت کی سزا سنائی جائے گی۔
 
 یہ سزا 30 دنوں کے اندر دی جا سکتی ہے۔
 
 تاہم "خاص حالات" میں اسے عمر قید میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
 
 ایسے مقدمات کی سماعت زیادہ تر فوجی عدالتوں میں ہوگی۔
 
 یہ قانون صرف ویسٹ بینک میں رہنے والے فلسطینیوں پر لاگو ہوگا۔
 
بڑی تنقید:
 
بتا دیں کہ اس بل کی اسرائیل کے اندر اور باہر دونوں جگہ شدید مخالفت ہو رہی ہے۔اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر امیچائی کوہن نے اسے "امتیاز پر مبنی" قانون قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون صرف فلسطینیوں پر سختی سے نافذ ہوگا، جبکہ یہودی شہریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
 
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کو ویسٹ بینک جیسے غیر خودمختار علاقے میں ایسا قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔اقوام متحدہ اور کئی بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بل پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس میں معافی یا رحم کی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی، جو بین الاقوامی معیار کے خلاف ہے۔
 
1962 کے بعد کوئی پھانسی نہیں ہوئی:
 
اسرائیل میں تکنیکی طور پر موت کی سزا کا قانون اب بھی موجود ہے، لیکن 1962 میں نازی جنگ کے مجرم ایڈولف آئخمن کو پھانسی دیے جانے کے بعد سے آج تک کسی کو بھی پھانسی نہیں دی گئی ہے۔
 
اپوزیشن کا خدشہ:
 
اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ قانون پاس ہو گیا تو مستقبل میں ہونے والے یرغمالوں کی ادلا بدلی کے معاہدوں پر برا اثر پڑ سکتا ہے، کیونکہ ماضی میں قیدیوں کی ادلا بدلی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔