کولکاتہ: مغربی بنگال میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف ہونے والے طلبہ احتجاج کے بعد پولیس کی کارروائی ایک نئے تنازع کا سبب بن گئی ہے۔ گرفتار افراد کی مذہبی شناخت، سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز نے اس معاملے کو صرف قانون نافذ کرنے تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے سیاسی اور سماجی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔ 24 جولائی کو کولکاتہ میں بائیں بازو سے وابستہ آٹھ طلبہ تنظیموں نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔ مظاہرین نے امتحانی بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
احتجاج کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 70 افراد کی شناخت کرنے اور سات ایف آئی آر درج کرنے کا دعویٰ کیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض مقدمات میں گونڈا ایکٹ سمیت سخت قانونی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ تاہم، اس کارروائی کے بعد سب سے زیادہ بحث اس دعوے پر ہو رہی ہے کہ گرفتار کیے گئے 14 افراد میں سے 13 کا تعلق مسلم برادری سے ہے۔ اس دعوے کے بعد مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں نے پولیس کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی بیانات بھی بحث کا مرکز
اس معاملے میں بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے "فرائیڈے پیپل" جیسی اصطلاح استعمال کیے جانے اور مسلم اکثریتی علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے سخت کارروائی کی بات بھی تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سے ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
سلمان کی ویڈیو پر نئی بحث
اسی معاملے میں سلمان نامی ایک نوجوان کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ ویڈیو کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس میں سلمان احتجاج کے دوران پتھراؤ کرتے ہوئے نہیں بلکہ احتجاج ختم ہونے کے بعد سڑک پر پڑی بوتلیں اور دیگر کچرا صاف کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ سلمان کے بھائی عمران نے الزام لگایا کہ پولیس ان کے بھائی کو گھر سے حراست میں لے گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سلمان کے خلاف تشدد یا پتھراؤ میں ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، لیکن صرف شبہے یا مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی کو ملزم نہ بنایا جائے۔
کئی سوالات اب بھی برقرار
کولکاتہ احتجاج کے بعد کی کارروائی نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ کیا گرفتاریاں صرف دستیاب شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہیں؟ کیا قانون تمام مظاہرین پر یکساں انداز میں نافذ ہوا؟ اور اگر گرفتار افراد کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں تو کیا انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا؟ فی الحال ان سوالات کے جوابات پولیس کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہو سکیں گے، تاہم یہ معاملہ ایک بار پھر احتجاج، قانون کے یکساں نفاذ اور شہری حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ چکا ہے۔