جنتر منتر اور پارلیمنٹ کے اطراف 20 جولائی کو طلبہ احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال سے متعلق ایک نیا تنازع سامنے آیا ہے۔ سرکاری دستاویزات میں پلاسٹک پیلٹس اور فائر آرمز کے استعمال کی تحریری اجازت کا ذکر سامنے آنے کے بعد پولیس کے سابقہ مؤقف پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل دہلی پولیس نے عوامی سطح پر یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ احتجاج کے دوران پیلٹ گن کے استعمال کا دعویٰ "جھوٹا اور گمراہ کن" ہے۔ تاہم اب بعض سرکاری ریکارڈز کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کارروائی کے دوران نہ صرف پلاسٹک پیلٹس استعمال کرنے کی اجازت دی گئی بلکہ فائر آرمز کے استعمال کی منظوری بھی تحریری طور پر موجود تھی۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق، 20 جولائی کے واقعات سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے پر نئی دہلی کے ڈی سی پی سچنج شرما کے دستخط موجود ہیں۔ اس حکم میں مبینہ طور پر RAF اور CRPF کو ہجوم پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور ضرورت پڑنے پر فائر آرمز استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
اسی طرح پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کی جنرل ڈائری میں درج کارروائی کی تفصیلات میں، ڈی سی پی راجہ بھاٹیہ کے احکامات کے تحت استعمال ہونے والے سامان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ان ریکارڈز کے مطابق کارروائی کے لیے 55 نان الیکٹرک شیل، 55 الیکٹرک شیل، 5 آنسو گیس اسموک شیل، ایک اینٹی رائٹ گن اور پلاسٹک پیلٹس کے دو راؤنڈ استعمال کرنے کی تحریری منظوری درج ہے۔
اس معاملے میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر پلاسٹک پیلٹس RAF کے ذریعے استعمال کیے گئے تھے تو کیا اس سے دہلی پولیس کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے؟ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کارروائی مشترکہ آپریشن کے تحت متعلقہ پولیس افسران کی منظوری سے کی گئی ہو تو کمانڈ اور جوابدہی کا تعین بھی اسی تناظر میں کیا جاتا ہے۔
قانونی طور پر بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (BNSS) کی دفعہ 149 پولیس کو امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری طاقت استعمال کرنے کا اختیار دیتی ہے، تاہم اس کے ساتھ یہ اصول بھی منسلک ہے کہ طاقت کا استعمال متناسب (Proportional Force) اور کم سے کم ہونا چاہیے تاکہ شہریوں کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔
اس پیش رفت کے بعد کئی اہم سوالات سامنے آ رہے ہیں۔ اگر حالات اتنے سنگین تھے کہ فائر آرمز اور پلاسٹک پیلٹس کے استعمال کی تحریری اجازت دینی پڑی، تو اس کی بنیاد کیا تھی؟ کیا طاقت کے استعمال سے پہلے مظاہرین کو مناسب وارننگ دی گئی تھی یا مذاکرات کی کوشش کی گئی تھی؟ اور کیا اس کارروائی کے بعد کسی آزاد اور غیر جانبدار ادارے سے اس پورے واقعے کی جانچ کرائی گئی؟
فی الحال ان سوالات پر متعلقہ حکام کی جانب سے تفصیلی اور باضابطہ وضاحت کا انتظار ہے۔ دوسری جانب اس معاملے سے متعلق سامنے آنے والی دستاویزات نے 20 جولائی کے احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔