ترنمول کانگریس کے 20 ارکانِ پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کے معاملے میں ایک اہم نئی پیش رفت ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے ان تمام ارکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سات دن کے اندر جواب دینے کو کہا ہے۔ یہ کاروائی ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کے بعد ہوئی ہے۔ بنرجی نے الزام لگایا ہے کہ ان 20 ارکان نے پارٹی چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کی، اس لیے انہیں آئین کے انحراف مخالف قانون کے تحت نااہل قرار دیا جانا چاہیے۔
اسپیکر نے کیا کہا؟
25 اگست کو جاری کیے گئے نوٹس کے ساتھ ابھیشیک بنرجی کی جانب سے 18 جون کو دائر کی گئی درخواست کی ایک کاپی بھی ارکان کو بھیجی گئی ہے۔ لوک سبھا سیکریٹریٹ نے ارکان سے کہا ہے کہ وہ نوٹس ملنے کے سات دن کے اندر اس درخواست پر اپنا جواب اور مؤقف پیش کریں۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ تک کیسے پہنچا؟
اس معاملے میں ابھیشیک بنرجی نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹی ایم سی کی جانب سے ان 20 ارکان کو نااہل قرار دینے کے لیے درخواستیں دی گئی تھیں، لیکن ان پر فیصلہ کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے منگل کو اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے 20 ارکان کو نوٹس جاری کیا اور ان سے جواب طلب کیا۔ سماعت کے دوران اسپیکر اوم برلا اور لوک سبھا کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ارکان کو پہلے ہی نااہلی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس پرجسٹس جوئے مالیہ باغچی نے واضح کیا کہ اصل مسئلہ صرف نوٹس جاری کرنے کا نہیں بلکہ نااہلی کی درخواستوں پر مقررہ وقت میں فیصلہ کرنے کا ہے۔سپریم کورٹ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں دیا کہ ارکان نااہل ہیں یا نہیں۔ عدالت میں ابھی صرف ابھیشیک بنرجی کی اس درخواست پر کاروائی ہو رہی ہے جس میں اسپیکر سے نااہلی کی درخواستوں پر جلد فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ٹی ایم سی نے 20 ارکان کے خلاف کیا الزام لگایا؟
ٹی ایم سی کا الزام ہے کہ اس کے 20 ارکان نے پارٹی چھوڑ کر نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (NCPI) میں شمولیت اختیار کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ ارکان ٹی ایم سی کے انتخابی نشان پر لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے تھے۔ اس لیے کسی دوسری سیاسی جماعت میں شامل ہونا پارٹی کی رکنیت چھوڑنے کے برابر ہے اور اس بنیاد پر انہیں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف ان ارکان کا مؤقف ہے کہ ان کا اقدام قانون کے مطابق سیاسی انضمام ہے اور انہیں نااہل نہیں کیا جا سکتا۔
ارکان کو NCPI گروپ کے طور پر تسلیم کیا گیا
تنازع اس وقت شروع ہوا جب ٹی ایم سی کے 20 لوک سبھا ارکان نے اعلان کیا کہ وہ NCPI میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد انہیں پارلیمنٹ میں NCPI گروپ کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان ارکان نے قومی جمہوری اتحاد (NDA) کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیا ہے۔
اب معاملہ کہاں پہنچا؟
اب اس معاملے میں لوک سبھا اسپیکر کی جانب سے 20 ارکان کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں سات دن کے اندر جواب دینا ہوگا۔ اس کے بعد اسپیکر نااہلی کی درخواستوں اور ارکان کے جواب کا جائزہ لیں گے۔ دوسری جانب سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس نے ارکان سے جواب طلب کیا ہے۔ یعنی فی الحال 20 ارکان کو نااہل قرار نہیں دیا گیا۔ ابھی ان سے جواب مانگا گیا ہے، جس کے بعد مزید کاروائی کا فیصلہ ہوگا۔ابھی کسی رکن کو نااہل قرار نہیں دیا گیا۔ موجودہ مرحلے میں صرف ان سے جواب مانگا گیا ہے۔ ان کے جواب ملنے کے بعد اسپیکر نااہلی کی درخواستوں پر مزید کاروائی کریں گے۔