مغربی بنگال میں سویندو ادھیکاری کی قیادت میں حکومت کے قیام کے ساتھ ہی ریاست میں ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہوا ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد پہلی بار بنگال میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت قائم ہوئی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں 15 سال کی حکمرانی کے بعد، بنگال کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اب سویندو کے کندھوں پر ہے۔ اسی بیچ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری کا ممتا بنرجی کی حمایت والے بیان پر رد عمل آیا ہے۔
گزشتہ روز ممتا بنرجی نے اپوزیشن جماعتوں سے ریاست میں ایک ہوکر بی جے پی کا مقابلہ کرنے کی بات کرتے ہوئے کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت مانگی تھی۔
جس پر ادھیر رنجن چودھری نے کہا ہے کہ ممتا بنرجی کے دورِ حکومت میں بنگال میں ہوئے تمام تشدد کا اب نتیجہ بھگتنا پڑے گا۔انہوں نے بنگال میں کانگریس اور سیکولر علاقوں کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی اور آج خود انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
ممتا بنرجی پر طنز کرتے ہوئے کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ آج ان کی طاقت پھیکی پڑ گئی ہے اور وہ حمایت مانگ رہی ہیں۔ سب سے پہلے، انہیں راہل گاندھی کو انڈیا اتحاد کے لیڈر کے طور پر قبول کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی ہم کسی بات پر غور کریں گے۔
سویندو حکومت جارحانہ انداز میں ؟
بنگال کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد نئے وزیر اعلیٰ ادھکاری نے واضح اشارے دے دیے ہیں کہ ان کی حکومت قانون و نظم، انتظامی سختی اور ترقی کے مسائل پر جارحانہ انداز میں کام کرے گی۔ وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے کئی اہم میٹنگز کے ذریعے افسروں کو واضح پیغام دیا کہ حکومت عوام سے کیے گئے وعدوں کو ترجیحی بنیاد پر پورا کرنے کی سمت میں کام کرے گی۔
خیال رہے کہ بنگال اسمبلی انتخابات میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 15 سال تک اقتدار میں رہنے کے باوجود پارٹی کی تعداد محض 80 نشستوں پر رہ گئی۔