پاکستان کےدارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر H-9 میں واقع اتوار بازار میں منگل کی شام اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے بازار کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آتشزدگی کے نتیجے میں 100 سے زائد دکانیں جل کر راکھ ہو گئیں جبکہ کروڑوں روپے مالیت کا سامان تباہ ہو گیا۔
آگ اس قدر شدید تھی کہ بازار سے اٹھنے والا سیاہ دھواں اسلام آباد کے مختلف علاقوں سے واضح طور پر دیکھا جا رہا تھا۔ آگ تیزی سے اسٹالز اور دکانوں میں پھیلتی گئی جس کے باعث تاجروں اور خریداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاعات ملتے ہی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ تاہم آگ کی شدت کے پیش نظر راولپنڈی سے بھی اضافی فائر بریگیڈ اور ریسکیو گاڑیاں طلب کی گئیں تاکہ صورتحال پر جلد قابو پایا جا سکے۔
امدادی اہلکار کئی گھنٹوں تک مسلسل آگ بجھانے میں مصروف رہے۔ ریسکیو ٹیموں نے رات گئے تک کارروائیاں جاری رکھیں تاکہ آگ کو مکمل طور پر قابو میں لایا جا سکے اور اسے بازار کے دیگر حصوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔
ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مالی نقصان انتہائی زیادہ ہے۔ متعدد دکانداروں کا سامان، فرنیچر اور دیگر تجارتی اشیا مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے بازار کے اطراف کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور غیر متعلقہ افراد کا داخلہ محدود کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی متعلقہ اداروں نے شواہد جمع کرنے اور آگ لگنے کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کی اصل وجہ جاننے کے لیے مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں گی۔ تفتیشی ٹیمیں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آگ کسی تکنیکی خرابی، شارٹ سرکٹ یا کسی اور وجہ سے لگی۔
دوسری جانب متاثرہ تاجروں نے حکومت سے فوری امداد اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتوار بازار میں موجود بیشتر دکانداروں کا روزگار انہی دکانوں سے وابستہ تھا اور اس حادثے نے ان کی معاشی صورتحال کو شدید متاثر کیا ہے۔
اسلام آباد کے اتوار بازار میں پیش آنے والا یہ واقعہ حالیہ برسوں کی بڑی آتشزدگیوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے ایک بار پھر عوامی مقامات پر حفاظتی انتظامات اور فائر سیفٹی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔