• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • ماؤ میں خاتون سے مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم کی گرفتاری کا انتظار

ماؤ میں خاتون سے مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم کی گرفتاری کا انتظار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jul 17, 2026 IST

ماؤ میں خاتون سے مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا الزام، ملزم کی گرفتاری کا انتظار
اتر پردیش کے ماؤ ضلع سے ایک خاتون کے ساتھ مبینہ زیادتی اور بلیک میلنگ کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے خواتین کے تحفظ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
 
متاثرہ خاتون کے مطابق، یہ واقعہ 2024 میں اس وقت پیش آیا جب وہ ایک بیٹری اسکوٹر خریدنے کے لیے ایک شوروم گئی تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق، شوروم کے ملازم شبھم چورسیہ نے نئی گاڑی آنے کا بہانہ بنا کر ان کا موبائل نمبر حاصل کیا اور بعد میں انہیں دوبارہ شوروم آنے کے لیے کہا۔
 
شکایت کے مطابق، شوروم پہنچنے پر خاتون کو مبینہ طور پر نشہ آور کولڈ ڈرنک پلایا گیا، جس کے بعد بے ہوشی کی حالت میں ان کے ساتھ زیادتی کی گئی اور اس کی ویڈیو بھی بنا لی گئی۔ متاثرہ کا الزام ہے کہ اس ویڈیو کو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر گزشتہ دو برس سے انہیں مسلسل بلیک میل کیا جاتا رہا اور ان کے ساتھ بار بار زیادتی کی جاتی رہی۔
 
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک ذہنی اور جسمانی اذیت برداشت کرنے کے بعد انہوں نے ہمت کرتے ہوئے پولیس سے رجوع کیا اور ایف آئی آر درج کرائی۔ تاہم، ان کے مطابق شکایت درج ہونے کے کئی دن گزرنے کے باوجود ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی، جس پر انہوں نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
 
اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ، متاثرین کو بروقت انصاف کی فراہمی اور جرائم کے خلاف فوری قانونی کارروائی کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں پولیس کی فوری، غیر جانبدار اور مؤثر کارروائی نہ صرف متاثرہ کو انصاف دلانے کے لیے ضروری ہے بلکہ معاشرے میں قانون کا خوف برقرار رکھنے کے لیے بھی اہم ہے۔
 
یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ اس مرحلے پر یہ الزامات متاثرہ خاتون کی شکایت پر مبنی ہیں، اور ملزم کے خلاف مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش جاری ہے۔ حتمی حقائق اور قانونی ذمہ داری کا تعین عدالت میں ہونے والی کارروائی اور تحقیقاتی نتائج کی بنیاد پر ہوگا۔
 
اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ خواتین کو محفوظ ماحول فراہم کرنے اور جنسی جرائم کے متاثرین کو بروقت انصاف دلانے کے لیے متعلقہ ادارے مزید مؤثر اقدامات کب کریں گے۔