امریکہ میں میٹا کے خلاف ایک اہم مقدمے کی سماعت شروع ہوگئی ہے، جس میں کمپنی پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بچوں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا اور انہیں زیادہ دیر تک پلیٹ فارم استعمال کرنے کی طرف مائل کیا۔ کیلیفورنیا کی ایک وفاقی عدالت میں شروع ہونے والے اس مقدمے میں چار ریاستیں میٹا سے اربوں ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ریاستیں یہ بھی چاہتی ہیں کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارمز کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں کرے تاکہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ مل سکے۔
بچوں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچانے کا الزام
کیلیفورنیا ، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کی حکومتوں کا الزام ہے کہ میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام جیسی ایپس کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ بچے زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پہلے سے معلوم تھا کہ بچے سوشل میڈیا کے مسلسل استعمال، سائبر غنڈہ گردی اور دیگر آن لائن خطرات سے متاثر ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود پلیٹ فارمز کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے کافی اقدامات نہیں کیے گئے مقدمے میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ میٹا نے اپنے پلیٹ فارمز سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں عوام کو مکمل معلومات نہیں دیں۔
13 سال سے کم عمر بچوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا الزام
مقدمے میں ایک اور اہم الزام یہ ہے کہ میٹا نے 13 سال سے کم عمر بچوں کی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع کیں۔ ریاستی حکام کا کہنا ہے کہ کمپنی کو معلوم تھا کہ کم عمر بچے اس کی ایپس استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، بعض صورتوں میں اگر کسی بچے کا فیس بک اکاؤنٹ کم عمری کی وجہ سے بند کیا جاتا تھا تو اس سے منسلک انسٹاگرام اکاؤنٹ لازمی طور پر بند نہیں کیا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے کمپنی کے اقدامات پر سوال اٹھاتا ہے۔
سائبر غنڈہ گردی اور جنسی استحصال کے الزامات
مقدمے کے دوران بچوں اور نوجوانوں کو پیش آنے والے مختلف نقصانات کا ذکر کیا گیا، جن میں سائبر غنڈہ گردی، جنسی استحصال اور سوشل میڈیا سے متعلق دیگر خطرات شامل ہیں۔ عدالت کے باہر متاثرہ خاندانوں اور ان کے وکلا نے احتجاج بھی کیا۔ ان کے پاس ایسے بچوں اور نوجوانوں کے نام درج تھے جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ وہ سوشل میڈیا سے جڑے نقصانات سے متاثر ہوئے۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کے لیے سوشل میڈیا کو محفوظ بنانے کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔
مقدمے میں میٹا کی اندرونی تحقیق بھی اہم ثبوت بن سکتی ہے۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پہلے سے معلوم تھا کہ انسٹاگرام اور فیس بک کی بعض خصوصیات نوجوانوں کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر ٹیکے رہنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ میٹا ان الزامات کی تردید کر رہی ہے اور کہتی ہے کہ اس نے صارفین، خاص طور پر نوجوانوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے ہیں۔
میٹا کے سابق ملازم کی گواہی
مقدمے میں ریاستوں کی جانب سے پہلے گواہ کے طور پر آرٹورو بیجار کو پیش کیا گیا۔ وہ ماضی میں میٹا کے ساتھ حفاظتی معاملات پر کام کر چکے ہیں اور سائبر غنڈہ گردی کے خلاف اقدامات پر توجہ دیتے رہے ہیں۔ بیجار نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ میٹا کی جانب سے صارفین کی حفاظت سے متعلق حاصل کی گئی تحقیق کو کمپنی نے مصنوعات کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا۔
میٹا نے الزامات مسترد کر دیے
دوسری جانب میٹا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپنا دفاع کیا ہے۔ کمپنی کے وکیل پال شمٹ نے عدالت میں کہا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کو میٹا کی ایپس استعمال نہیں کرنی چاہئیں، لیکن کچھ بچے اپنی عمر کے بارے میں غلط معلومات دے کر اکاؤنٹس بناتے ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ کمپنی اپنے پلیٹ فارمز کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور اس نے بچوں کے تحفظ کے لیے کئی تبدیلیاں بھی کی ہیں۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ مقدمے میں اس کی جانب سے صارفین کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات اور ان میں بہتری لانے کی کوششوں کو بھی عدالت کے سامنے رکھا جائے گا۔
چھ ہفتے تک چل سکتی ہے سماعت
اس مقدمے کی نگرانی امریکی ڈسٹرکٹ جج ایوان گونزالیز روجرز کر رہی ہیں۔ سماعت تقریباً چھ ہفتے تک جاری رہنے کی توقع ہے۔ مقدمے کے دوران میٹا کے سربراہ مارک زکربرگ کے علاوہ کمپنی کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کی گواہی بھی متوقع ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس سے یہ طے ہونے میں مدد ملے گی کہ بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے بڑی ٹیک کمپنیوں کی قانونی ذمہ داری کہاں تک ہے۔
ایک اہم پس منظر یہ بھی ہے کہ میٹا کو اس سے پہلے نیو میکسیکو میں نوجوانوں کے تحفظ سے متعلق ایک بڑے مقدمے میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں عدالت نے کمپنی کے خلاف مالی جرمانے اور حفاظتی اقدامات کی ہدایت دی تھی ۔