Wednesday, July 01, 2026 | 14 محرم 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • معمولی ہاتھ کی چوٹ بھی بن سکتی ہے بڑا مسئلہ، بروقت علاج مستقل معذوری سے بچا سکتا ہے

معمولی ہاتھ کی چوٹ بھی بن سکتی ہے بڑا مسئلہ، بروقت علاج مستقل معذوری سے بچا سکتا ہے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Jul 01, 2026 IST

معمولی ہاتھ کی چوٹ بھی بن سکتی ہے بڑا مسئلہ، بروقت علاج مستقل معذوری سے بچا سکتا ہے
منصف ٹی وی کے خصوصی صحت پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج "Hand Injuries: When a Small Injury Can Become a Big Problem" کے موضوع پر ڈاکٹر سندیپ سری رام، کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک ہینڈ سرجن، کامینینی ہاسپٹلس، کنگ کوٹھی، حیدرآباد نے ہاتھ کی چوٹوں، ان کی پیچیدگیوں اور بروقت علاج کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
 
ڈاکٹرسندیپ سری رام نے بتایا کہ عام طور پر لوگ ہاتھ کی معمولی چوٹ، کٹ، موچ یا انگلی کے زخم کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات یہی چوٹیں اعصاب، شریانوں، کنڈروں (Tendons) یا ہڈیوں کو نقصان پہنچا کر مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ انسانی جسم کا نہایت اہم عضو ہے اور روزمرہ کے تقریباً تمام کام اسی کے ذریعے انجام پاتے ہیں، اس لیے کسی بھی چوٹ کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔
 
انہوں نے وضاحت کی کہ اگر چوٹ کے بعد انگلیاں صحیح طرح حرکت نہ کریں، ہاتھ میں شدید درد، مسلسل سوجن، بے حسی، خون کا زیادہ بہنا یا ہاتھ کی ساخت میں تبدیلی محسوس ہو تو فوری طور پر آرتھوپیڈک یا ہینڈ سرجن سے رجوع کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور علاج سے ہاتھ کی مکمل فعالیت کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
 
ڈاکٹر سندیپ نے بتایا کہ صنعتی حادثات، گھریلو کام، باورچی خانے میں چاقو سے لگنے والی چوٹیں، مشینوں کے استعمال، سڑک حادثات اور کھیل کود کے دوران ہاتھ کی چوٹیں عام ہیں۔ بعض صورتوں میں مائیکرو سرجری کے ذریعے کٹے ہوئے اعصاب، خون کی نالیاں اور کنڈروں کو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے مریض کا بروقت اسپتال پہنچنا انتہائی ضروری ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ جدید طبی سہولیات اور مائیکرو سرجیکل تکنیک کی بدولت ہاتھ کی کئی پیچیدہ چوٹوں کا کامیاب علاج ممکن ہو چکا ہے، لیکن علاج کے بعد فزیوتھراپی اور ہینڈ ری ہیبلیٹیشن بھی اتنی ہی اہم ہے تاکہ ہاتھ کی طاقت، حرکت اور گرفت دوبارہ بحال ہو سکے۔
 
پروگرام کے دوران انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ کام کی جگہ پر حفاظتی دستانوں کا استعمال کریں، مشینری چلاتے وقت احتیاط برتیں، بچوں کو خطرناک آلات سے دور رکھیں اور کسی بھی چوٹ کی صورت میں خود علاج کرنے کے بجائے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
 
ماہرین کے مطابق ہاتھ کی چوٹوں میں ابتدائی "گولڈن آور" یعنی ابتدائی چند گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ اس دوران مناسب طبی امداد ملنے سے نہ صرف سرجری کے نتائج بہتر ہوتے ہیں بلکہ ہاتھ کی مستقل معذوری، انفیکشن اور پیچیدگیوں کے امکانات بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے معمولی نظر آنے والی ہاتھ کی چوٹ کو بھی نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طبی معائنہ کرانا صحت مند اور فعال زندگی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
 
 قارئین آپ ڈاکٹر سندیپ سری رام کی مکمل گفتگو یہاں دیکھ سکتےہیں۔ اور ساتھ ہی  منصف ٹی وی ہیلتھ پرصحت سے متعلق کسی بھی موضوع پر ویڈیوز دیکھ سکتےہیں۔