محرم الحرام کے قریب آتے ہی میرواعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے سرینگر میں شیعہ سنی اتحاد اور اخوت کے فروغ کے لیے ایک اہم رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنا، محتاط رویہ اپنانا اور تمام مقدس مقامات کا احترام کرنا ناگزیر ہے۔
سرینگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محرم الحرام کے انتظامات اور بھائی چارے کی فضا کو مضبوط بنانے کے لیے بہت جلد 'متحدہ علماء شیعہ سنی کوآرڈینیشن کمیٹی' کا ایک اہم اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔
میرواعظ نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیں۔ اس کے علاوہ آن لائن اشتعال انگیزی، مذہبی جذبات کو ٹھیس
پہنچانے اور مقدس شخصیات کے بارے میں غیر محتاط گفتگو سے سختی سے گریز کرنے کی تلقین کی گئی۔
مقصد: ماہِ محرم میں امن و امان اور بھائی چارے کو یقینی بنانا، اور شرپسند عناصر کی جانب سے تفرقہ پھیلانے کی سازشوں کو ناکام بنانا ہے۔
شیعہ سنی اتحاد اور یکجہتی کا فروغ باہمی اخوت: میرواعظ نے واضح کیا کہ شیعہ اور سنی برادریوں کے درمیان صدیوں پرانا بھائی چارہ کشمیر کی منفرد پہچان ہے، جسے کسی بھی قیمت پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔
مشترکہ بنیادیں: انہوں نے یاد دلایا کہ فروعی یا نظریاتی اختلافات کے باوجود تمام مسلمانوں کا قرآن، رسولِ اکرم ﷺ اور بنیادی عقائد ایک ہی ہیں، جو ہمیں تقسیم کے بجائے جوڑتے ہیں۔
مقدسات کا احترام اور فتنہ انگیزی کا سداد مقدس ہستیوں کا احترام: منبر ومحراب سے گفتگو یا مجالس کے دوران خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ اور اہل بیتِ اطہارؑ سمیت تمام اسلامی مقدسات کا احترام لازم قرار دیا گیا ہے۔
نفرت انگیز تقاریر پر پابندی: دونوں مکاتبِ فکر کے علماء اور مقررین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی تقاریر یا بیانات سے مکمل گریز کریں جس سے کسی دوسرے مسلک کے جذبات مجروح ہوں۔
سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کی ہدایت آن لائن اشتعال انگیزی پر روک: نوجوانوں اور سوشل میڈیا صارفین کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انٹرنیٹ پر فرقہ وارانہ بحثوں، اشتعال انگیز پوسٹس اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع سے دور رہیں۔ شرپسند عناصر سے ہوشیاری: سوشل میڈیا پر اتحاد کو نقصان پہنچانے والے خودساختہ ایجنڈوں اور افواہوں پر کان نہ دھرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
پیغامِ کربلا پر عمل آوری حق اور صبر کا درس: میرواعظ کے مطابق، نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی پوری انسانیت کو ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، صبر، رواداری اور باہمی ہمدردی کا آفاقی پیغام دیتی ہے۔ میرواعظ عمر فاروق اور دیگر کشمیری علماء کا ماننا ہے کہ اتحاد و یکجہتی ہی امتِ مسلمہ کی اصل طاقت ہے اور اس نازک وقت میں کوئی بھی اندرونی انتشار بیرونی قوتوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ محرم الحرام کو انتہائی عقیدت، امن اور احترام کے ساتھ گزاریں۔