Wednesday, April 08, 2026 | 19 شوال 1447
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • امریکہ ایران جنگ بندی کا کشمیر ی مذہبی اور سیاسی رہنما وں نے کیا خیرمقدم

امریکہ ایران جنگ بندی کا کشمیر ی مذہبی اور سیاسی رہنما وں نے کیا خیرمقدم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 08, 2026 IST

امریکہ ایران جنگ بندی کا کشمیر ی مذہبی اور سیاسی رہنما وں نے کیا خیرمقدم
کشمیر کے سیاسی رہنماؤں نے امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان 39 دن کی جنگ کے بعد ہونے والی عارضی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ مغربی ایشیا کے تنازع کے بعد امریکہ اور ایران کی طرف سے 39 دن کے  اعلان کردہ دو طرفہ جنگ بندی کا جموں و کشمیر کے ایک سینئر مذہبی رہنما میر واعظ عمر فاروق نے خیر مقدم کیا ہے۔ یہ کہہ کر تناؤ کو غیر متوقع طور پر عروج پر پہنچانے کے بعد کہ اگر ایران نے اس کی طرف سے مقرر کردہ ڈیڈ لائن کے خاتمے سے پہلے مثبت جواب نہ دیا تو پوری تہذیب کا صفایا ہو جائے گا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ دو ہفتے کی جنگ بندی پر دو متحارب ممالک، امریکہ  اور ایران نے اتفاق کیا ہے۔اسرائیل نے کہا کہ اگرچہ انہیں اس کے بارے میں آخری وقت پر مطلع کر دیا گیا تھا، لیکن ملک جنگ بندی کی پابندی کرے گا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگ بندی پاکستان کی ثالثی میں ہوئی اور اس کا ذکر اس کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ پر کیا۔جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی عوام عظیم ہیں۔

جموں وکشمیرمیں بڑے پیمانے پرخیرمقدم

جنگ بندی کے اعلان کا جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے، اور یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لوگوں کے لیے راحت کے طور پر آیا ہے۔وادی کشمیر میں شیعہ مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے جن کی ایران کے ساتھ مذہبی اور فرقہ وارانہ وابستگی تاریخی رہی ہے۔ جموں و کشمیر کے سنی مسلمانوں نے بھی شیعہ مسلمانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

امن جنگ پرغالب آتا ہے: میرواعظ عمرفاروق 

حریت کانفرنس کے چیئرمین ،سینئر مذہبی رہنما اور چیف عالم دین میر واعظ عمر فاروق نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ایکس پر کہا، "ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان امن کی طرف ایک خوش آئند قدم ہے۔ یہ تحمل اور بات چیت کو تنازعات کے حل کے لیے محاذ آرائی پر ترجیح دیتا ہے، اور امن جنگ پر غالب آتا ہے۔"

 ایرانی عوام اور قیادت  کی ستائش 

انہوں نے مزید کہا کہ "انتہائی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام اور قیادت کی جانب سے جو لچک اور جرات کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اس اہم جنگ بندی کو عمل میں لانے میں انہیں اور اسلام آباد سمیت تمام اداکاروں کو مبارکباد۔28 فروری کو امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یکم مارچ کو کشمیر میں بڑے پیمانے پر پرامن احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

امریکہ نے جنگ سے کیا حاصل کیا: عمرعبداللہ 

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، جو اس جنگ بندی پر ردعمل دینے والے پہلے سیاستدان تھے، نے سوال کیا کہ امریکہ نے اس جنگ سے کیا حاصل کیا؟ انہوں نے  سوشل میڈیا  فلیٹ فارم ایکس پر لکھا: "جنگ بندی سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھل رہی ہے، جو جنگ سے پہلے سب کے لیے کھلی اور دستیاب تھی۔ تو پھر اس 39 دن کی جنگ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوا؟"

 بھارت کو ترقی کرنے کےلئے ہر ملک سے دوستی کرنی ہوگی

نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ "تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ ہی واحد راستہ ہے اور بھارت کو تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے چاہئیں۔" موجودہ قیادت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ حکومت ہند کو مشورہ نہیں دے سکتے، لیکن ایک بات ضرور کہہ سکتے ہیں کہ اگر بھارت کو ترقی کرنی ہے تو ہر ملک سے دوستی کرنی ہوگی۔ "ایک وقت تھا جب ہمارے امریکہ، چین اور روس جیسے طاقتور ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات تھے۔" انہوں نے روس کے ساتھ تعلقات اور بھارت و چین کے درمیان پنچ شیل معاہدے کا بھی ذکر کیا جو وزیر اعظم جواہر لال نہرو اور چینی وزیر اعظم شاؤ اینلاے کے درمیان طے پایا تھا۔

ایران کی "بہادری" کی ستائش: محبوبہ مفتی 

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدراورسابق وزیراعلیٰ  محبوبہ مفتی نے ایران کی "بہادری" کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ایران  نے امریکہ اور اسرائیل کو مذاکرات پر مجبور کیا۔ "اس جنگ بندی میں پاکستان کے مرکزی کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جس نے دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لایا۔ پاکستان کو اس کردار پر سراہا جانا چاہیے۔ جو رہنما کہتے ہیں کہ پاکستان کا کردار ہمارے ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، انہیں پاکستان فوبیا سے باہر آنا چاہیے۔ میں امید کرتی ہوں کہ پاکستان اور بھارت کسی وقت بات چیت شروع کریں گے اور اپنے مسائل حل کریں گے، جو ہمارے لیے نیک شگون ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ یہ جنگ بندی مستقل ہو جائے اور ایران خوشحال ہو۔

 جنگ میں ایران کامیاب :آغا سید روح اللہ مہدی

سرینگر  کے  رکن پارلیمنٹ اور  نیشنل کانفرنس لیڈر  آغا سید روح اللہ مہدی نے قرآن پاک کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے(إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ) اشارہ ددعویٰ  کیا  ہےکہ اس جنگ میں ایران کامیاب رہا۔ انہوں نے لکھا: "اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آ سکتا۔"۔