Friday, April 24, 2026 | 06 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • تیڑھے یا بے ترتیب دانت (مس الائن توتھ)صرف خوبصورتی نہیں، صحت کا بھی اہم مسئلہ

تیڑھے یا بے ترتیب دانت (مس الائن توتھ)صرف خوبصورتی نہیں، صحت کا بھی اہم مسئلہ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 24, 2026 IST

تیڑھے یا بے ترتیب دانت (مس الائن توتھ)صرف خوبصورتی نہیں، صحت کا بھی اہم مسئلہ
منصف ٹی وی کے پروگرام "ہیلتھ اور ہم" میں آج ایک نہایت اہم اور عام مسئلے پر گفتگو کی گئی، جس کا تعلق دانتوں کی صحت سے ہے۔ پروگرام کی میزبان حفصہ خان کے ساتھ ماہر کاسمیٹک ڈینٹسٹ ڈاکٹر سمینہ علی نے شرکت کی اور مس الائن (ٹیڑھے یا بے ترتیب) دانتوں سے متعلق تفصیل سے آگاہ کیا۔
 قارئین آپ ڈاکٹر کی مکمل گفتگو یہاں دیکھ سکتےہیں۔
 

ڈاکٹر سمینہ علی کے مطابق مس الائن دانت ایک عام لیکن نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ ہے۔ اس کی کئی اقسام ہوتی ہیں، جن میں دانتوں کے درمیان خلا (گیپس)، دانتوں کا ٹیڑھا ہونا (کراؤڈنگ)، اور دانتوں کا آگے کی طرف نکل آنا (پروکلینیشن) شامل ہیں۔ اگر ان مسائل کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو مستقبل میں دانتوں کی کمزوری، کیویٹیز اور دیگر پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
 
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف خوبصورتی تک محدود نہیں بلکہ مجموعی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ منہ انسانی جسم کا داخلی راستہ ہے، اور اگر دانتوں میں خرابی ہو تو اس کے اثرات دل، شوگر اور دیگر بیماریوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔
 
مس الائن دانتوں کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نے بتایا کہ بچپن کی عادات جیسے انگوٹھا چوسنا، منہ سے سانس لینا (ماؤتھ بریتھنگ) اور زبان کا دانتوں پر دباؤ ڈالنا (ٹَنگ تھرسٹنگ) اہم عوامل ہیں۔ اس کے علاوہ جینیاتی اثرات اور دودھ کے دانتوں کا وقت پر نہ گرنا بھی اس مسئلے کا سبب بن سکتا ہے۔
 
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ بچوں کے دانتوں کا بروقت معائنہ کرائیں، کیونکہ ابتدائی عمر میں تشخیص سے علاج آسان اور مؤثر ہو جاتا ہے۔ جدید دندان سازی میں ایسے آلات دستیاب ہیں جو کم عمر میں ہی جبڑوں اور دانتوں کی درست نشوونما میں مدد دیتے ہیں۔
 
علاج کے حوالے سے ڈاکٹر سمینہ علی نے بتایا کہ بریسز (Braces) اور انویزی الائنرز (Invisalign) دونوں مؤثر طریقے ہیں۔ بریسز روایتی اور زیادہ پیچیدہ کیسز کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ انویزی الائنرز شفاف، کم نمایاں اور نسبتاً آرام دہ ہوتے ہیں، تاہم ہر مریض کے لیے مناسب نہیں ہوتے۔
 
انہوں نے بتایا کہ بریسز لگوانا تکلیف دہ نہیں ہوتا، صرف ابتدائی ایک دو دن معمولی تکلیف ہو سکتی ہے۔ اس دوران صفائی کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے اور سخت یا چپکنے والی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔
 
ایک اور اہم نکتہ یہ سامنے آیا کہ مس الائن دانتوں کی وجہ سے بولنے، چبانے اور ہاضمے کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض بچوں میں زبان یا گال کا کٹنا اور واضح طور پر بولنے میں دشواری بھی دیکھی گئی ہے۔
 
ڈاکٹر سمینہ علی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاج کے بعد ریٹینرز کا استعمال نہایت ضروری ہے، کیونکہ اس سے دانت دوبارہ اپنی پرانی حالت میں جانے سے بچتے ہیں۔
 
آخر میں انہوں نے پیغام دیا کہ ہر بچے اور ہر فرد کا حق ہے کہ اس کے دانت صحت مند اور خوبصورت ہوں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ روایتی سوچ سے ہٹ کر جدید علاج سے فائدہ اٹھائیں اور بچوں کی صحت پر سمجھوتہ نہ کریں۔