گجرات کے ضلع موربی میں ایک عجیب و غریب واقعہ نے لوگوں کو حیرت اور تعجب میں ڈال دیا ہے۔ یہاں کے ایک گاؤں میں موجود 18 فٹ گہرے کنویں کے پانی میں اچانک پراسرار لہریں اور ابلتا ہوا تحرک دیکھنے کو ملا، جس نے مقامی لوگوں سے لے کر سوشل میڈیا صارفین تک سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی۔
پانچ دنوں سے جاری عجیب منظر
یہ واقعہ موربی کے ویرپردا گاؤں کا ہے، جہاں ایک نجی فارم میں تین ماہ قبل ہی یہ 18فٹ گہرا کنواں کھودا گیا تھا۔ 2 اگست سے اس کنویں کے پانی میں پراسرار ہلچل دیکھی گئی، جس کی ویڈیوز جلد ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ یہ منظر دیکھنے کے لیے ہائی وے سے گزرنے والے مسافر، راہگیر اور آس پاس کے دیہاتی بڑی تعداد میں جمع ہونے لگے اور علاقے میں طرح طرح کی افواہیں پھیلنے لگی۔
کیا یہ زلزلہ یا کوئی مافوق الفطرت طاقت ہے؟
ابتدا میں مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ شاید زیر زمین زلزلے کی کسی ہلکی سرگرمی "Seismic Activity" یا کسی مافوق الفطرت قوت کی وجہ سے پانی میں یہ لہریں بن رہی ہیں۔ دیہاتیوں میں خوف اور الجھن کی فضا قائم ہو گئی تھی، جس کے بعد انتظامیہ کو اطلاع دی گئی۔
سائنس دانوں اورضلع ارضیات کی ٹیم کی وضاحت
علاقائی انتظامیہ اور ضلع ارضیات کی ٹیم "Geologists" نے فوراً موقع کا معائنہ کیا اور تمام افواہوں کو مسترد کر دیا۔
زیر زمین ہوا کا دباؤ: ضلع جیولوجسٹ جے ایس واڈھر کے مطابق، علاقے میں ہونے والی مسلسل شدید بارشوں کی وجہ سے زیر زمین پانی تیزی سے ری چارج ہو رہا ہے۔ چٹانوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہوا جب پانی کے دباؤ کی وجہ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتی ہے، تو کنویں کے پانی میں ابال اور لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سیسمولوجیکل ریسرچ: گاندھی نگر کی ایک ٹیم نے بھی تصدیق کی ہے کہ علاقے میں کوئی زلزلے کا خطرہ یا فالٹ لائن فعال نہیں ہے۔
انتظامیہ کی عوام سے اپیل
ڈسٹرکٹ کلکٹر سوپنل کھرے نے شہریوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ گھبرانے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ ایک مکمل سائنسی عمل ہے اور لوگ کسی بھی قسم کی افواہوں یا خوف پھیلانے والی باتوں پر دھیان نہ دیں۔ گاندھی نگر سے ایک بالخصوص سائنسی ٹیم جلد ہی مزید تحقیق کے لیے وہاں کا دورہ کرے گی۔