نئی دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی جانب سے NEET UG 2026 اور دیگر امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج مسلسل جاری ہے۔ اسی احتجاج کے دوران معروف ماہرِ تعلیم اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اب بیسویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جس کے باعث ان کی صحت کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
طویل عرصے سے جاری بھوک ہڑتال کے باعث ڈاکٹروں نے وانگچک کی جسمانی حالت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل طبی نگرانی کی ضرورت ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق طویل فاقہ کشی جسم پر سنگین اثرات مرتب کر رہے ہیں، اس لیے روزانہ صحت کا معائنہ انتہائی ضروری ہے۔
ادھر دہلی ہائی کورٹ نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ سونم وانگچک کی روزانہ طبی جانچ کو یقینی بنایا جائے اور اگر ضرورت پیش آئے تو مناسب طبی اقدامات فوری طور پر کیے جائیں تاکہ ان کی صحت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ NEET UG 2026 سمیت مختلف امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام پر طلبہ کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کو مختلف سماجی، تعلیمی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ کئی تنظیموں اور عوامی شخصیات نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
دوسری جانب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ احتجاجی مقام پر امن و امان کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ عدالت کی ہدایات کے مطابق سونم وانگچک کی طبی نگرانی بھی جاری ہے۔ اس معاملے پر ملک بھر میں بحث کا سلسلہ جاری ہے اور طلبہ سمیت مختلف طبقے امتحانی نظام میں شفافیت اور احتساب کے مطالبات کر رہے ہیں۔